انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی جو ماہرین تعلیم، سماجی رہنماؤں اور کاروباری افراد کے ایک وفد میں شامل تھے ، نے نئی دہلی میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی۔
ڈاکٹر ظہیرقاضی اجیت ڈوبھال سے ملاقات کرتے ہوئے- تصویر:آئی این این
انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی جو ماہرین تعلیم، سماجی لیڈروں اور کاروباری افراد کے ایک وفد میں شامل تھے ، نے نئی دہلی میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی۔ میٹنگ میں تعلیم، انٹرپرینیور شپ اور اقلیتوں کو بااختیار بنانے جیسے اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس بات چیت نے تعمیری گفتگو کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تبادلہ خیال کے دوران اجیت ڈوبھال نے قابل قدر تاثرات اور سفارشات شیئر کیں اور تعلیمی اور ترقیاتی اقدامات کو مضبوط کرنے کے لئے کارپوریٹ سوشل رسپانسیبلیٹی (سی ایس آر) اور فنڈ کے انتظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے انجمن اسلام کے کام اور ویژن کی تعریف کی اور پورے ملک میں ہونہار، ضرورتمند اور مستحق طلباء کی اس ادارے کے ذریعہ مدد کی مسلسل کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہاکہ ’’قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال جی کے ساتھ بامعنی اور مستقبل کے حوالے سے گفتگو اعزازکی بات ہے۔ تعلیم کے استحکام، انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور سی ایس آر سپورٹ کا مشورہ بروقت اور بااثر ہے۔ ہم انہیں انجمن اسلام میں قابل عمل بنانے کے پابند ہے جس سے طلبہ اور قوم کو پورے ملک میں نفع پہنچے گا۔‘‘
ایک گھنٹہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی اس بات چیت کو بصیرت افروز اور اثرانگیز قرار دیا گیا جس سے تعلیم، ہنر مندی اور سماجی ترقی کو آگے بڑھانے کے عزم کو تقویت ملی۔
ڈاکٹر ظاہر قاضی نے۲۰۱۷ء میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہونے والی اس سے قبل کی بات چیت کو بھی یاد کیا جہاں ایک منتخب وفد جس میں وہ بھی شامل تھے، اجیت ڈوبھال کے ساتھ انہیں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اس میٹنگ میں اسی طرح اقلیتوں کی تعلیم، انٹرپرینیورشپ اور جامع ترقی کے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔