Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈی آر آئی کی بڑی کارروائی، پاکستان سے آنے والے ۳۶۴؍ میٹرک ٹن خشک کھجور ضبط

Updated: August 05, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi

ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی ) نے گجرات کے کانڈلا بندرگاہ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے ۳۶۴؍ میٹرک ٹن ممنوعہ پاکستانی خشک کھجور کی کھیپ ضبط کر لی ہے، جس کی مالیت تقریباً ۳؍ کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

Dates Image.Photo:INN
خشک کھجور۔ تصویر:آئی این این

ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی ) نے گجرات کے کانڈلا بندرگاہ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے ۳۶۴؍ میٹرک ٹن ممنوعہ پاکستانی خشک کھجور  کی کھیپ ضبط کر لی ہے، جس کی مالیت تقریباً ۳؍ کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ نے بدھ کو اس کارروائی کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھئے:تیسرا دن گیند بازوں کے نام رہا، پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط


وزارت کے مطابق خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ڈی آر آئی حکام نے ۱۳؍ کنٹینرز کو قبضے میں لیا، جن میں خشک کھجور بھری ہوئی تھی۔ درآمدی دستاویزات میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ کھجورمتحدہ عرب امارات (یو اے ای)  سے درآمد کی گئی ہے، لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کی اصل جائے پیدائش پاکستان  تھی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کھجور کو پہلے پاکستان سے  دبئی منتقل کیا گیا، جہاں اسے دوسرے کنٹینرز میں منتقل کرکے یو اے ای کی مصنوعات ظاہر کرتے ہوئے ہندوستان بھیجا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ درآمد کنندگان نے پاکستان سے درآمدات پر عائد پابندی سے بچنے کے لیے سامان کی اصل معلومات چھپائیں اور اس کے اصل ملک کے بارے میں غلط اعلان کیا۔
ڈی آر آئی نے کسٹمز ایکٹ ۱۹۶۲ء کی متعلقہ دفعات کے تحت پوری کھیپ ضبط کر لی ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس اسمگلنگ نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد اور کمپنیوں کا بھی پتہ لگایا جا سکے۔یہ گزشتہ ایک ہفتے میں اس نوعیت کی دوسری بڑی کارروائی ہے۔ اس سے قبل ڈی آر آئی نے  توتیکورین بندرگاہ پر تقریباً ۴ء۱؍ کروڑ روپے  مالیت کی ۱۴؍ میٹرک ٹن پاکستانی گُگّل رال  ضبط کی تھی، جسے جعلی دستاویزات کے ذریعے  صومالیہ  کی قدرتی رال ظاہر کر کے دبئی کے راستے بھارت لایا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ظہیر خان کی اینکر اسپورٹس اے بی نے جافنا کنگز ٹیم کو خرید لیا


حکام کے مطابق، گُگّل رال ایک نایاب نباتاتی جنس ہے، جو  CITES Appendix IIمیں درج ہے اورIUCN ریڈ لسٹ  میں اسے ’’انتہائی خطرے سے دوچار‘‘ (Critically Endangered) قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ درآمدی قوانین کی خلاف ورزی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور اصل ملک چھپانے کی کوششوں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK