بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ایک بیان میں کہا کہ منظم گروہوں نے طلبہ کے احتجاج کو پرتشدد مظاہرے میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو گرانے والا تشدد منصوبہ بند تھا۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ایک بیان میں کہا کہ منظم گروہوں نے طلبہ کے احتجاج کو پرتشدد مظاہرے میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو گرانے والا تشدد منصوبہ بند تھا۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے ہندوستان سے ورچوئل طور پر اپنی پہلی براہ راست بین الاقوامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ ان کی حکومت کو گرانے والا تشدد منصوبہ بند تھا اور منظم گروہوں نے طلبہ کے مطالبات کو پرتشدد سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرنے کیلئے کام کیا۔انہوں نے بنگلہ دیش میں جولائی-اگست ۲۰۲۴ء کے ملک گیر مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پرامن طلبہ تحریک نہیں تھی بلکہ حکومت کی تبدیلی کے لیے ایک منظم سیاسی مہم تھی۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش گزشتہ دو سالوں سے مصائب کا شکار ہے۔ یہ وہ بنگلہ دیش نہیں ہے جو ہم نے تعمیر کیا تھا؛ یہ وہ بنگلہ دیش نہیں ہے جس کے لیے ۱۹۷۱ ءمیں ۳۰؍ لاکھ افراد نے اپنی جانیں قربان کیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: وزیراعظم کوچیف آف اسٹاف کی تعیناتی پر فلسطین حامیوں کی مخالفت کا سامنا
حسینہ نے مزید کہا کہ یونس نے خود کہا کہ یہ باریک بینی سے ترتیب دی گئی تحریک تھی جس کی قیادت ایک ماسٹر مائنڈ کر رہا تھا۔ ان کے اپنے الفاظ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ محض ایک بے ساختہ طلبہ احتجاج نہیں تھا۔حسینہ نے مزید کہا کہ اب گھروں، کام کی جگہوں اور کیمپسوں میں خوف ہے اور مزید کہا کہ یہ وہ بنگلہ دیش نہیں ہے جس کا تصور جنگِ آزادی کے بعد کیا گیا تھا۔میں بابائے قوم شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہوں،میں ایک ایسے شخص کے طور پر بول رہی ہوں جس نے اپنی زندگی بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ گزاری ہے اور مجھے زبردستی اپنے ملک سے دور کر دیا گیا، لیکن میں کبھی اپنے عوام سے جدا نہیں ہوئی۔حسینہ نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد عوامی لیگ کے لیڈروں اور کارکنوں کو وسیع پیمانے پر سیاسی ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا، ہزاروں مارے گئے، لاپتہ ہوئے یا گرفتار ہوئے جبکہ لاکھوں افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
بعد ازاں انہوں نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری انتظامیہ پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے تشدد کے حوالے سے ان کی حکومت کے قائم کردہ عدالتی انکوائری کو روک دیا۔انہوں نے جنگِ آزادی کی میراث مٹانے کی کوشش کی۔ حسینہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کی ۱۹۷۱ ءکی جنگِ آزادی سے منسلک تمام علامتوں کو توڑا گیا، اقلیتی برادریوں کے افراد کو نشانہ بنایا گیا، اور شیخ مجیب الرحمان کی تاریخی دھان منڈی ۳۲ ؍کی رہائش گاہ کو جنگِ آزادی کی میراث مٹانے کے لیے مسمار کر دیا گیا۔حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے خلاف درج مقدمات کے باوجود بنگلہ دیش واپس جائیں گی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ حراست یا قید کے خطرات کے باوجود بنگلہ دیش واپس جائیں گی اور خوف انہیں بنگلہ دیش کے عوام کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے نہیں روکے گا۔میرا جو بھی مقدر منتظر ہے، میں اپنے عوام کے پاس واپس جاؤں گی۔ جبکہ میرے پیارے ہم وطن تکلیف میں ہیں، میں دور نہیں رہ سکتی۔ میری زندگی ذاتی سلامتی کے حساب کتاب سے بہت پہلے گزر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۳؍ برس میں ۲؍ لاکھ ۶۸؍ اسرائیلیوں نے اسرائیل چھوڑ دیا: تحقیق
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی واپسی اقتدار کے بارے میں نہیں ہے بلکہ سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امن کی بحالی، اور بنگلہ دیش کو صحیح راستے پر واپس لانےکے بارے میں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی جماعت عوامی لیگ پر لگائی گئی پابندی ہٹائی جائے، اس کے لیڈروں کو رہا کیا جائے اور پارٹی ارکان کے خلاف قانونی مقدمات واپس لیے جائیں۔ واضح رہے کہ یہ تقریب نئیدہلی میں سر مارک ٹلی آڈیٹوریم میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب (ایف سی سی) جنوبی ایشیا کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی۔