Updated: August 05, 2026, 10:08 PM IST
| Aizawl
جاپان نے گرتی ہوئی شرحِ پیدائش اور معمر ہوتی آبادی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مزدوروں کی شدید قلت سے نمٹنے کیلئے ۲۰۱۹ء میں اسپیسیفائڈ اسکلڈ ورکر (ایس ایس ڈبلیو) رہائشی حیثیت متعارف کرائی تھی۔ یہ پروگرام ضروری زبان اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو نرسنگ کیئر، مینوفیکچرنگ، زراعت اور فوڈ پروڈکشن جیسے شعبوں میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
جاپان کی تیزی سے معمر ہوتی آبادی اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی قلت نے شمال مشرقی ہندوستان کے نوجوانوں کیلئے مشرقی ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، مذکورہ وجوہات کی وجہ سے خاص طور پر دیکھ بھال کے شعبے میں ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں جاپان کا رخ کر رہے ہیں۔
میزورم، منی پور اور آسام کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جاپان کے ’اسپیسیفائڈ اسکلڈ ورکر‘ (ایس ایس ڈبلیو) پروگرام کے تحت وہاں کام کرنے کیلئے جاپانی زبان سیکھ رہی ہے اور ٹیسٹ کی تیاری کر رہی ہے۔ ان میں آئیزول کی ۳۳ سالہ جینیٹ لالننگسانگی بھی شامل ہیں، جنہوں نے مارچ میں ضروری زبان اور مہارت کے امتحانات پاس کئے اور جاپانی شہر فوکووکا (Fukuoka) میں دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرنے کی اہلیت حاصل کی۔ وہ اب اپنے ’سرٹیفکیٹ آف ایلیجیبلٹی‘ کا انتظار کررہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ اکتوبر تک جاپان منتقل ہو جائیں گی۔
جینیٹ اس وقت ایک سیلز پرسن کے طور پر ماہانہ تقریباً دس ہزار روپے کماتی ہیں، وہ ایک چھوٹا آن لائن کاروبار بھی چلاتی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ جاپان میں اپنی آمدنی سے وہ اپنے خاندان کی مالی معاونت کرنے اور بالآخر ان کیلئے ایک گھر بنانے میں کامیاب ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کی پریس کانفرنس، ایتھنال ملا ایندھن، بے روزگاری اور عوامی مسائل پر توجہ
واضح رہے کہ جاپان نے گرتی ہوئی شرحِ پیدائش اور معمر ہوتی آبادی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مزدوروں کی شدید قلت سے نمٹنے کیلئے ۲۰۱۹ء میں ایس ایس ڈبلیو رہائشی حیثیت متعارف کرائی تھی۔ یہ پروگرام ضروری زبان اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو نرسنگ کیئر، مینوفیکچرنگ، زراعت اور فوڈ پروڈکشن جیسے شعبوں میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جاپان مارچ ۲۰۲۹ء تک تقریباً ۰۵ء۸ لاکھ ایس ایس ڈبلیو کارکنان کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ صرف نرسنگ کیئر کے شعبے میں ہی تقریباً ۲۶ء۱ لاکھ غیرملکی کارکنوں کی ضرورت پیش آنے کا امکان ہے۔
شمال مشرقی ہندوستان کے کارکنوں کیلئے جاپان میں کام کرنے کے مالی فوائد نمایاں ہوسکتے ہیں۔ میزورم کی ۲۷ سالہ سیرین مالسوامی تین برسوں سے جاپان کے ایک اولڈ ایج ہوم میں کام کر رہی ہیں۔ نرسنگ میں گریجویٹ سیرین، میزورم کے قصبے لونگلی (Lunglei) میں کام کرتے ہوئے ماہانہ تقریباً ۱۵ ہزار روپے کماتی تھیں۔ لیکن اب وہ جاپان میں برسر روزگار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اب ہر ماہ ۵۰ ہزار سے ۶۰ ہزار روپے گھر بھیج سکتی ہیں۔
تاہم، ہندوستانیوں کیلئے جاپان کے ماحول میں ڈھلنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ کارکنوں کو زبان کی مشکلات، ثقافتی اختلافات، تنہائی اور مشکل شفٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیرین نے بتایا کہ روزانہ کے تعامل کے چند مہینوں بعد ان کی جاپانی زبان میں کافی حد تک سدھار آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپانی وزیرِ اعظم تاکائچی صرف تین گھنٹے کی نیند لے پا رہی ہیں؛ اوور ورک کلچر پر ملک گیر بحث چھڑ گئی
شمال مشرقی ہندوستان کی ریاستی حکومتیں اور یونیورسٹیاں اب روزگار کے اس راستے کی حمایت کر رہی ہیں۔ آسام نے ایس ایس ڈبلیو کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کی تربیت کیلئے سبسڈی کا اعلان کیا ہے جبکہ منی پور اور میزورم میں جاپانی زبان اور ہنر کی تربیت کے اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔
میزورم کے وزیرِ محنت لالن گھنگلووا ہمار نے اس پروگرام کو دونوں ممالک کے افراد کیلئے فائدہ مند قرار دیا اور کہا کہ جاپان کو اپنی معمر ہوتی آبادی کیلئے کارکنوں کی ضرورت ہے جبکہ شمال مشرقی ہندوستان کے پاس ایک جری اور جوان افرادی قوت موجود ہے جو روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ہے۔