بڑھتی ہوئی آلودگی اور کمپنیوں کے زہریلے کیمیکل کے اخراج نے ندی کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
الہاس ندی کو آلودگی سے بچانے کیلئے ڈرون سے نگرانی کی جائےگی- تصویر:آئی این این
لاکھوں شہریوں کی کی پیاس بجھانے والی اور علاقے کی شہ رگ کہلانے والی الہاس ندی اس وقت شدید ماحولیاتی بحران کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی اور زہریلے کیمیکل کے اخراج نے ندی کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔جس کے بعد انتظامیہ بالاخر حرکت میں آ گیا ہے۔کل گاؤں۔ بدلاپور میونسپل کونسل نے ندی کی نگرانی اور آلودگی کے اصل ذرائع کا پتہ لگانے کیلئے جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق میونسپل کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایکشن پلان کے مطابق اب روزانہ کی بنیاد پر مخصوص اوقات میں الہاس ندی کے طویل پاٹ اور گرد و نواح کا فضائی سروے کیا جائے گا۔یہ ڈرونز ہائی ڈیفینیشن اور تھرمل کیمروں سے لیس ہوں گے جو نہ صرف غیر قانونی نالوں اور گندے پانی کے اخراج کے مقامات کی نشاندہی کریں گے بلکہ کیمیائی فضلے کے خفیہ ذرائع کو بھی بے نقاب کریں گے۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ندی میں حائل رکاوٹوں، آبی پودوں اور غیر قانونی تجاوزات کا ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا تاکہ فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق شہر میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی عدم موجودگی کے باعث گھروں کا فضلہ براہ راست ندی میں جا رہا ہے۔وہیں ایم آئی ڈی سی کے صنعتی زون سے نکلنے والا ٹریٹمنٹ کے بغیر کیمیائی پانی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اس آلودہ پانی کی وجہ سے نہ صرف آبی حیات کو نقصان پہنچ رہا ہےبلکہ شہریوں میں مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔یاد رہے کہ لوناولا سے نکلنے والی الہاس ندی کرجت، بدلاپور اور امبرناتھ سے ہوتی ہوئی کلیان کی کھاڑی تک لاکھوں انسانوں کی پیاس بجھاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ کی یہ ڈیجیٹل آنکھ الہاس ندی کو کتنا تحفظ فراہم کر پاتی ہے۔