Updated: July 06, 2026, 4:08 PM IST
| New Delhi
ایک ادارے کی جانب سے جون کے وسط میں کیے گئے ایک علیحدہ سروے سے معلوم ہوا کہ ای ۲۰؍ پیٹرول اور اگلے ای ۳۰؍ منتقلی کے بارے میں خدشات کے باعث ۴۳؍ فیصد ممکنہ گاڑی خریدار اگلے ۱۲؍ماہ کے دوران اپنی گاڑی خریدنے کا فیصلہ مؤخر کر سکتے ہیں یا خریداری سے گریز کر سکتے ہیں۔
پیٹرول پمپ۔ تصویر:آئی این این
ای ۲۰؍پیٹرول کے لازمی نفاذ کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت کو شدید عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا اور متعدد بار وضاحتیں جاری کرنا پڑیں۔ گاڑی مالکان بار بار یہ سوال اٹھاتے رہے کہ آیا پرانی گاڑیوں میں زنگ لگنے، گھساؤ، پرزوں کے خراب ہونے یا کارکردگی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب گزشتہ ماہ مرکزی حکومت نے۲۲، ۲۵، ۲۷؍ اور ۳۰؍ فیصد ایتھنول آمیزش والے، ابھی تک متعارف نہ کرائے گئے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں رعایت کا اعلان کیا۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران مائلیج اور انجن کی کارکردگی سے متعلق شکایات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’دل چاہتا ہے‘ کی موسیقی محض ساڑھے ۳؍ دنوں میں تیار ہو گئی تھی
لوکل سرکلز (LocalCircles) کے سروے کے مطابق پیٹرول گاڑیوں کے مالکان کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مائلیج میں نمایاں کمی اور گاڑی میں ’’غیر معمولی گھساؤ اور ٹوٹ پھوٹ‘‘ کی شکایت کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مئی کے بعد سے ایسی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور نصف سے زیادہ شرکاء نے ان مسائل کی نشاندہی کی۔ اسی ادارے کے جون کے وسط میں کیے گئے ایک اور سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ای ۲۰؍ پیٹرول اور متوقع ای ۳۰؍ منتقلی کے خدشات کے باعث ۴۳؍ فیصد ممکنہ گاڑی خریدار آئندہ ۱۲؍ ماہ میں گاڑی خریدنے کا فیصلہ مؤخر کر سکتے ہیں یا خریداری سے گریز کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا’’جون۲۰۲۶ء میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ ۲۰۲۳ء سے پہلے کی پیٹرول گاڑیوں کے وہ مالکان جو مائلیج میں ۱۰؍ فیصد سے زیادہ کمی کی شکایت کر رہے ہیں، ان کی شرح مئی ۲۰۲۶ء کے ۴۵؍ فیصد سے بڑھ کر جون ۲۰۲۶ء میں ۶۶؍ فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح غیر معمولی گھساؤ، ٹوٹ پھوٹ یا مرمت کی ضرورت کی شکایت کرنے والوں کی تعداد بھی ایک ماہ کے اندر ۲۹؍ فیصد سے بڑھ کر ۵۵؍ فیصد تک پہنچ گئی۔‘‘
سروے میں کیا سامنے آیا؟
یہ سروے ۲۰۲۳ء سے پہلے کی پیٹرول گاڑیوں کے ۴۴؍ہزار سے زائد مالکان کی آراء پر مبنی ہے، جو ہندوستان کے۳۰۵؍ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ای ۲۰؍ پیٹرول کے مسلسل استعمال کے صرف ایک ماہ کے اندر مائلیج اور گاڑی کےمیکانیکل پرزوں سے متعلق مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
لاکھوں صارفین نے کہا کہ ان کا عملی تجربہ آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آراے آئی ) کے اس سرکاری اندازے سے مطابقت نہیں رکھتا جس میں ایندھن کی کارکردگی میں صرف ایک سے۶؍ فیصد کمی بتائی گئی تھی۔ لوکل سرکلز نے مزید کہا کہ کئی آزادانہ عملی ٹیسٹوں کے مطابق پرانی گاڑیوں میں ایندھن کی کارکردگی میں ۸؍ سے ۱۲؍ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایک رکن اسمبلی کو۲۰؍ کروڑ کی پیشکش، راؤت کا دعویٰ
سروے کے اہم نتائج
۲۰۲۳ء سے پہلے کی پیٹرول گاڑیوں کے ۱۰؍ میں سے ۶؍ سے زیادہ مالکان نے تصدیق کی کہ ۲۰۲۵ءکے آغاز سے ان کی گاڑی کی ایندھن کی بچت (مائلیج) میں ۱۰؍ فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ ای ۲۰؍ پیٹرول استعمال کرنے والوں میں یہ شرح مئی ۲۰۲۶ء کے ۴۵؍ فیصد سے بڑھ کر جون ۲۰۲۶ء میں ۶۶؍ فیصد ہو گئی۔۲۰۲۳ء سے پہلے کی پیٹرول گاڑیوں کے ۱۰؍ میں سے ۵؍ سے زیادہ مالکان نے بتایا کہ ۲۰۲۵ء کے آغاز سے ان کی گاڑی میں گھساؤ، ٹوٹ پھوٹ یا مرمت کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔ ای ۲۰؍ پیٹرول استعمال کرنے والوں میں یہ شرح مئی ۲۰۲۶ء کے ۲۹؍فیصد سے بڑھ کر جون ۲۰۲۶ء میں ۵۵؍ فیصد ہو گئی۔