Updated: June 07, 2026, 12:45 PM IST
| New Delhi
۸۵؍ فیصد ایتھنال ملاوٹ والے’ای ۸۵؍ فیول‘ کا دہلی میں باضابطہ آغاز، قیمت ۱۲ء۸۲؍ روپے فی لیٹر، حکومت کا اس سے خام تیل کی درآمدات پر انحصار کم ہونے کادعویٰ، صارفین کو کسی قسم کی الجھن نہ ہو، اس کیلئے ای ۸۵؍ فراہم کرنے والی مشینوں پر خصوصی برانڈنگ اور نمایاں لیبل لگائے جائیں گے۔
مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری ای ۸۵؍ اسٹیشن کے افتتاح کے موقع پر۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
ملک میں متبادل ایندھن کے استعمال کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے۸۵؍ فیصد ایتھنال ملاوٹ والے’ ای ۸۵؍ فیول‘ کا باضابطہ آغاز دہلی میں کر دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے انڈین آئل کارپوریشن کے پُوسا روڈ آؤٹ لیٹ پر دہلی کے پہلے ای ۸۵؍فیول ڈسپنسنگ اسٹیشن کا افتتاح کیا۔ اس نئے ایندھن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عام پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً۲۰؍ روپے فی لیٹر سستا ہے۔ دہلی میں ای ۸۵؍کی قیمت۸۲ء۱۲؍روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ موجودہ ای ۲۰؍ پیٹرول اس سے تقریباً۲۰؍ روپے مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔حکومت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف گاڑی چلانے والوں کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ خام تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار بھی کم ہوگا۔ صارفین کو کسی قسم کی الجھن نہ ہو ، اس کیلئےای ۸۵؍فراہم کرنے والی مشینوں پر خصوصی برانڈنگ اور نمایاں لیبل لگائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سی بی ایس ای میں بے ضابطگیاں دھرمیندر پردھان کی نااہلی کاثبوت ہیں: کانگریس
ملک بھر میں توسیع کا منصوبہ
پُوسا روڈ کا یہ اسٹیشن ملک کا پہلا ای ۸۵؍فیول پمپ ہے، تاہم حکومت اسے بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں دہلی این سی آر اور ممبئی- پونے - ناگپور کوریڈور میں ۵۰؍ تا ۱۰۰؍ ای ۸۵؍ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔حکومتی منصوبے کے مطابق رواں سال کے اختتام تک ایسے اسٹیشنوں کی تعداد بڑھا کر تقریباً۵۰۰؍ تک پہنچائی جائے گی جبکہ۲۰۲۷ء کے آخر تک ملک کے بڑے شہروں میں تقریباً ۵؍ ہزار آؤٹ لیٹ قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں ای ۲۲،ای ۲۵،ای ۲۷ ؍ اورای ۳۰؍جیسے زیادہ ایتھنال ملاوٹ والے ایندھن کے معیارات کو بھی منظوری دی ہے۔
ای ۲۰ ؍ اور ای ۸۵؍ میں کیا فرق ہے؟
فی الحال ملک بھر میں دستیاب پیٹرول ای ۲۰؍ ہے جس میں ۲۰؍ فیصد ایتھنال اور ۸۰؍ فیصد پیٹرول شامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ای ۸۵؍ میں ۸۵؍ فیصد ایتھنال اور صرف۱۵؍ فیصد پیٹرول شامل ہے۔
حکومت مستقبل میں ای ۱۰۰؍ یعنی ۱۰۰؍ فیصد ایتھنال پر مبنی فلیکس فیول کے استعمال کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
درآمدی بل کم کرنے کی کوشش
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس سے ہندوستان کے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں ایتھنال پر مبنی ایندھن کو ایک اہم متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: گزشتہ ۶؍ سال میں آتشزدگی کے باعث ۵۴۳؍ افراد لقمہ اجل بنے
کسانوں اور ماحولیات کے لیے فائدہ
ایتھنال گنے کے رس، مکئی اور دیگر زرعی اجناس سے تیار کیا جاتا ہے جس کی لاگت خام تیل کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس سے ایک جانب کسانوں کو نئی منڈی ملتی ہے جبکہ دوسری جانب صارفین کو نسبتاً سستا ایندھن دستیاب ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ای ۸۵؍ کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں بھی کمی آئے گی جس سے فضائی آلودگی کم کرنے اور ماحول کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس ایندھن سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسی گاڑیوں کا ہونا ضروری ہے جو فلیکس فیول یا زیادہ ایتھنال ملاوٹ والے ایندھن کے استعمال کی صلاحیت رکھتی ہوں۔