Updated: September 30, 2026, 4:17 PM IST
| New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے ۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات سے متعلق سازش کے مقدمے میں سماجی کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے ٹرائل کورٹ کے ضمانت نہ دینے کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیلیں بھی خارج کردیں۔
عمر خالد اور شرجیل امام۔ تصویر: آئی این این
دہلی فسادات میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ۲۰۲۰ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا ٹرائل اب بھی شروع ہونا باقی ہے۔ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج ۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات کی سازش کے کیس میں سماجی کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں رد کر دی ہیں۔یہ تیسرا موقع ہے جب عدالت نے خالد اور امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی ہیں، جبکہ اس کیس میں اب تک باضابطہ سماعت کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ۴؍ جولائی کے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ان کی اپیلیں خارج کر دیں جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ ’’عدالتی ضوابط کے پابند‘‘ ہیں اور دونوں افراد سے متعلق ۵؍ جنوری کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ کی طرف سے عائد کردہ شرائط میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: اسمیتا انسٹی ٹیوٹ کے’نامیاتی کھیتی مفت تربیتی کیمپ‘ کا افتتاح
جنوری میں، سپریم کورٹ نےخالد اور امام کی ضمانت تو مسترد کر دی تھی، لیکن اسی معاملے میں نامزد دیگر فعال کارکنان بشمول گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو راحت دیتے ہوئے ان کی ضمانتیں منظور کر لی تھیں۔اس وقت عدالتِ عظمیٰ نے کہا تھا کہ امام اور خالد محفوظ گواہوں کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد یا ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد، اپنی ضمانت کی درخواستیں دوبارہ دائر کر سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ خالد اور امام کا معاملہ دیگر ملزمان کے مقابلے میں ’’کیفیتی طور پر مختلف بنیادوں پر‘‘ کھڑا ہے ۔لائیو لاء کے مطابق، بدھ کو ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عائد کردہ شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کوئی غلطی نہیں پائی گئی اور اسی بنیاد پر ان کی اپیلوں کو خارج کر دیا گیا۔ خالد اور امام نے سپریم کورٹ کے ایک دوسرے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا، جو یو اے پی اےکے تحت درج کسی اور شخص کی ضمانت کا معاملہ تھااور جس میں ایک اور بنچ نے خالد اور امام کی ضمانت سے متعلق جنوری کے فیصلے کے بعض پہلوؤں پر سوالات اٹھائے تھے۔۸؍ مئی کو سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے جنوری کے اس حکم پر تنقید کرتے ہوئے مشاہدہ کیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی جیسے سخت قانون کے تحت چلنے والے مقدمات میں بھی ’’ضمانت ایک قانون ہے اور جیل ایک استثناء‘‘۔
یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر مصباح کی شاندار کامیابی، مالیگاؤں کی پہلی مسلم خاتون پیڈوڈونٹسٹ کا اعزاز
بار اینڈ بنچ کے مطابق، دہلی پولیس نے ان نئی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ کسی اورمعاملےمیں کسی دوسری بنچ کا دیا گیا فیصلہ خالد اور امام کے اپنے کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے طے کردہ مشاہدات اور ہدایات کو منسوخ نہیں کر سکتا۔خالد، امام اور دیگر سماجی کارکنان کو جنوری ۲۰۲۰ء سے ستمبر ۲۰۲۰ء کے درمیان فروری ۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں بھڑکنے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تشدد متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے حمایتیوں اور مخالفین کے درمیان ہوا تھا، جس میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس معاملے میں نامزد افراد پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، پبلک پراپرٹی کے نقصان کی روک تھام کے ایکٹ، آرمز ایکٹ اوراس وقت کے انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئےگئے تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ تشدد نریندر مودی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا اور اس کی منصوبہ بندی ان لوگوں نے کی تھی جنہوں نے ترمیمی شہریت قانون کے خلاف مظاہرے منعقد کئے تھے۔