Inquilab Logo

ووٹنگ کے مکمل اعدادوشمار کو جاری کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کی عجیب و غریب منطق

Updated: May 23, 2024, 3:12 PM IST | New Dehli

سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے الیکشن کمیشن نےاسے نامناسب اور غیر ضروری قرار دے دیا۔ کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح سے ڈیٹا کو عام کرنے سے انتخابی عمل کو نقصان پہنچے گا۔

Supreme Court, Photo: INN.
سپریم کورٹ، تصویر: آئی این این۔

الیکٹورل بونڈکی طرح اب’ ووٹر ٹرن آؤٹ‘ کو بھی چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی راہ پر چلتے ہوئے اب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ کس حلقے میں کتنی پولنگ ہوئی ہے، اسے ظاہر کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسے نامناسب اور غیر ضروری بھی قرار دیا۔ کمیشن نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس کی وجہ سے انتخابی عمل کو نقصان پہنچے گا۔ الیکشن کمیشن نے ۲۲؍ مئیکو سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے بتایا کہ امیدوار اور اس کے ایجنٹ کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی ’ ووٹر ٹرن آؤٹ‘ سے متعلق ڈیٹا شیئر کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے، اسلئے اس تعلق سے سیاسی جماعتوں کے مطالبات درست نہیں ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ’’پولنگ بوتھ میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد دینے والے فارم ’۱۷؍سی‘ کی تفصیلات کو عام نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے اور پورا انتخابی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔‘‘ کمیشن کی منطق ہے کہ مکمل ڈیٹا ظاہر کردینے سے چھیڑ چھاڑ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دفعہ ۳۷۰؍ کی منسوخی کو برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست خارج

الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے پہلے دو مرحلوں کیلئے پولنگ کے دن جاری کئے گئے اعداد و شمار اور اس کے بعد کی پریس ریلیز میں ہر دو مرحلوں کیلئے ۵؍ سے ۶؍ فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا انتخابات کے پہلے دو مرحلوں کیلئے پولنگ کے پہلے دن اورکچھ دنوں بعد ظاہر کئے گئے حتمی ووٹر ٹرن آؤٹ میں ایک کروڑ ۷؍ لاکھ ووٹوں کے فرق پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس تعلق سے سوال کرتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمیشن سے ایک دن بعد ہی حتمی ٹرن آؤٹ ظاہر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
 کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نےکچھ دنوں قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ووٹنگ کے چار مرحلوں کے دوران الیکشن کمیشن کی سرگرمیوں کے تعلق سے رائے دہندگان فکر مند ہیں۔ اول یہ کہ کمیشن کو حتمی ووٹنگ کے اعداد و شمار سامنے لانے میں ۱۰؍ سے ۱۱؍ دن لگتے ہیں جوبہت زیادہ ہیں اور پھر اعداد و شمار میں بھی کافی فرق ہوتا ہے۔ ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں ووٹوں میں اتنا فرق کبھی نہیں ہوا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی اور مودی کیخلاف عوام الیکشن لڑ رہے ہیں ‘‘

اس تعلق سےاسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے جس کےجواب میں الیکشن کمیشن نے ۲۲۵؍ صفحات کا حلف نامہ داخل کیا ہے۔درخواست میں اے ڈی آر نے لوک سبھا کے ہر مرحلے کی ووٹنگ کے اختتام کے۴۸؍ گھنٹے کے اندر الیکشن کمیشن کو پولنگ اسٹیشن کے حساب سے ڈیٹا ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کرنے کی درخواست کی ہے۔ اتنے سنگین الزامات کا جواب دینے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہی ملک کے ۱۴۰؍ کروڑ عوام کو مطمئن کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن نے سرے سے ان الزامات کو گمراہ کن قرار دے دیا اورشبہات کاازالہ کرنے کے بجائے اس مطالبے کو دو ٹوک انداز میں مسترد کردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK