• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلیم فروٹ سے منسلک جائیداد ہڑپنے کے معاملے میں ای ڈی کی کارروائی

Updated: November 07, 2026, 12:48 PM IST | Agency | Mumbai

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں  ڈونگری علاقے کے قریب واقع لمباٹ بلڈنگ اور تقریباً ۴؍کروڑ روپے کے بینک کھاتوں کی رقم عارضی طور پر ضبط کرلی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں  ڈونگری علاقے کے قریب واقع لمباٹ بلڈنگ اور تقریباً ۴؍کروڑ روپے کے بینک کھاتوں کی رقم عارضی طور پر ضبط کرلی ہے۔ یہ معاملہ گینگسٹر چھوٹا شکیل کے برادر نسبتی محمد سلیم اقبال قریشی عرف سلیم فروٹ سے متعلق ہے۔ای ڈی کے مطابق  الزام ہے کہ یہ جائیداد داؤد ابراہیم اور اس کے گروہ کے نام کا استعمال کرتے ہوئے دھمکیاں دینے، فرضی دستاویزات تیار کرنے اور دھوکہ دہی پر مبنی لین دین کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسے سلیم فروٹ کی اہلیہ شازیہ سلیم اقبال قریشی کے نام منتقل کردیا گیاتھا۔ ضبط کئے گئے بینک کھاتوں میں بلڈر اسلم عبدالرحمان پٹنی اور دیگر ملزمین کی رقوم شامل ہیں۔ایجنسی نے الزام لگایا کہ شبیر احمد حسن کرولیا اور یوسف احمد حسن کرولیا نے جائیداد کے اصل مالک کا روپ دھار کر اور کنوینس ڈیڈ سمیت فرضی دستاویزات تیار کرکے اسے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کی سازش رچی تھی تاکہ جائیداد کی منتقلی ممکن بنائی جاسکے۔

یہ بھی پڑھئے: کرلا تا مانخورد ریلوے لائن کےقریب جھوپڑوں کا ۱۷؍ نومبر کو انہدام ملتوی

اس معاملے کی تحقیقات ممبئی پولیس کی جانب سے درج کئے گئے ایک مقدمے سے شروع ہوئیں۔ یہ مقدمہ جنوبی افریقہ کے ایک تاجر کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ اس کے چچا اور کزنز نے سلیم فروٹ کے ساتھ مل کر عمرکھاڑی میں واقع اس کے والد کی جائیداد پر قبضہ کرلیا۔۲۰۱۶ءمیں اس عمارت کی مالیت تقریباً۲۵؍ کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔شکایت کنندہ کے مطابق ۲۰۰۶ء میں والد کی موت کے باوجود جائیداد کے لین دین سے متعلق دستاویزات پر ان کے دستخط جعلی طور پر کئے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ خاندان کے ایک فرد کو۲۰۱۶ء میں معلوم ہوا کہ یہ جائیداد۲۰۱۱ء میں فروخت کردی گئی تھی۔ای ڈی نے مزید الزام لگایا کہ پٹنی نے۲۰۱۹ءمیں داؤد ابراہیم اور سلیم فروٹ کے نام استعمال کرتے ہوئے عمارت کے مالکان یاسمین محمد احمد اور مرحومہ شیرزادہ جنگریز خان کو دھمکایا اور دباؤ ڈال کر لمباٹ بلڈنگ میں ۵۰؍فیصد حصہ حاصل کرلیا تھا۔ایجنسی کے مطابق  مالکان کو ان کا حصہ  سے بغیر کسی ادائیگی کے محروم کردیا گیا۔ بعد ازاں پٹنی نے عمارت شازیہ کے نام منتقل کردی۔

تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ جائیداد کی یکے بعد دیگرے کی گئی منتقلیوں کا مقصد اس لین دین کو قانونی ظاہر کرنا تھا، حالانکہ الزام ہے کہ جائیداد ہفتہ وصولی اور دباؤ کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK