• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرلا تا مانخورد ریلوے لائن کےقریب جھوپڑوں کا ۱۷؍ نومبر کو انہدام ملتوی

Updated: November 07, 2026, 11:51 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مکینوں کو راحت۔ مختلف طریقے سے اب تک کی گئی جد وجہد اور احتجاج کا مثبت نتیجہ۔ نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے بازآبادکاری کا یقین دلایا اورمرکزی وزیرریل اشونی وشنوسے بات چیت کی۔

Shanties along the Burmah-Shell railway line, the demolition of which has been postponed. Photo: Inquilab
برماشیل ریلوے لائن کے اطراف جھوپڑے جن کا انہدام ملتوی کردیاگیا ہے۔ تصویر: انقلاب

کرلا تا مانخورد ریلوے لائن کے قریب آباد جھوپڑا واسیوں  کی مختلف طریقے سے اب تک کی گئی   جد وجہد اور احتجاج کامثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے ۔ ۱۷؍ نومبر کی ریلوے کی جانب سے کی جانے والی انہدامی کارروائی ملتوی کردی گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ اورشہری ترقیات کے وزیر ایکناتھ شندے نے بازآباد کاری کے تئیںیقین دہانی کروائی ہے ۔ اس سے ۳؍ہزار ۷۵۰؍ مکینوں کوراحت  ملی ہے۔ 

اب تک کس کس انداز میں کوشش کی گئی 

  سینٹرل ریلوے کی جانب سے عدالت کے حکم کا حوالہ دیتےہوئے ۱۵؍ اکتوبر سے ۳۰؍ دن کے اندر یعنی ۱۵؍ نومبر تک اپنا مکان خالی کرنے کا نوٹس جاری کئے جانے کے بعد اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) حرکت میںآئی، سماجی خدمتگاروںنے آوازبلند کی، ایڈوکیٹ گائتری سنگھ سے شاکرشیخ اور ایڈوکیٹ حمزہ کے ہمراہ مکینوں  نے ملاقات کی اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے صلاح و مشورہ کیا، مہاراشٹر گھر حق سنگھرش سمیتی کی جانب سے باندرہ میںکلکٹر کے دفتر کے سامنے ۳؍دن قبل احتجاج کیا گیا اور کچھ لوگوں نے مقامی ایم ایل اے منگیش کڈالکر سے ملاقات کی۔ ان  مشترکہ کوششوں کا نتیجہ یہ  برآمد ہوا کہ حکومت حرکت میں آئی اورمکینوں کی باز آبادکاری کے تئیں راستہ ہموار ہوتا نظرآرہا ہے۔

حالانکہ عدالت کی جانب سے جس آرڈر کا سینٹرل ریلوے انتظامیہ کی جانب سے حوالہ دیا گیا تھا، اس میں صاف لفظوں میںعدالت نے یہ تاکید کی ہے کہ پہلے مکینوں کو بسایا جائے پھر انہیں ہٹایا جائے مگراس پرتوجہ نہیں دی جارہی تھی اور مکینوں کوبزور طاقت ہٹانے کی تیاری کرلی گئی تھی ۔ 

مکینوں کے مطالبات پرتوجہ اور امید افزاء پیش رفت  

کرلا اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی منگیش کڈالکر نے کہا کہ ’’میرے حلقے میںواقع سنجے نگر، کرانتی نگر، سنتوشی ماتا نگر، برما شیل لائن اور ریلوے کی زمین پر کئی برسوں سے آباد مکینوںکے تعلق سے ایکناتھ شندے کے ہمراہ جمعرات کو ہونے والی میٹنگ میں ہم نے بحیثیت عوامی نمائندہ اپنا موقف پیش کیا کہ جو شہری کئی برسوں سے اس جگہ پررہ رہے ہیں، انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے اور باوقار طریقے سے انہیں آباد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کولہاپور گوکل کوآپریٹیو دودھ یونین پر قبضے کیلئے مہایوتی حکومت سازش کررہی ہے‘‘

مسئلے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئےنائب وزیر اعلیٰ نے براہ راست مرکزی وزیر ریل اشونی وشنو سے رابطہ قائم کیا اور مشترکہ پالیسی وضع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ حکومت کے موقف سے عدالت کوآگاہ کیا جائے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ متعلقہ ایجنسیوں بشمول ریلوے کے آر اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ، سلم ری ہیبلیٹیشن اتھاریٹی (ایس آر اے)، ممبئی کے دونوں ضلع کلکٹروں اور میونسپل کمشنر کی مشترکہ میٹنگ کی جائے اور اتفاق رائے سے مشترکہ پالیسی بنائی جائے کہ جہاں بھی جھوپڑپٹی والوں کے اس طرح کے مسائل ہیں، کلسٹرپروجیکٹ کے ذریعے ان تمام شہریوں کی بازآبادکاری کس طرح کی جا سکتی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ شہریوں کے لئے راحت پہنچانے والا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ عملی طور پرکب پیش رفت ہوتی ہے ؟

’’ہم نگاہ رکھیں گے اورجدوجہد جاری رکھیں گے‘‘

مذکورہ ریلوے لائن کے قریب جھوپڑپٹی کے مکینوں اور ان کے حق کے لئے جدوجہد کرنےوالوں کا کہنا ہےکہ حکومت کی جانب سے یقیناً مثبت یقین دہانی کروائی گئی ہےمگرہم سب نگاہ رکھیں گے اور حسب ِ ضرورت اپنی جانب سے آگے کوشش کریں گے۔

’’یہ مکینوں کا حق ہے‘‘

اس ضمن میں بہوجن ونچت اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ ’’ جو پیش رفت کی گئی ہے اور جس طرح ایکناتھ شندے کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے،  وہ امید افزاء ہے۔ مکینوں کی بازآبادکاری ہونی ہی چاہئے ،یہ ان کا حق ہے ۔‘‘ 

برماشیل لائن کیوں کہا جاتا ہے ؟

کرلا تا مانخورد ریلوے لائن کے قریب آباد جھوپڑوں کو برماشیل کی لائن کے قریب جھوپڑپٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اصل میں اسےان صنعتی ریلوے لائن یا سائڈنگز کو کہا جاتا ہے جو برطانوی دورِحکومت اوربعد میں مشہور پیٹرولیم کمپنی برما شیل،جو اب بھارت پیٹرولیم کے نام سے جانی جاتی ہے ،کے آئل ڈپو ، ریفائنریز اور اسٹوریج ٹینکوں تک تیل لے جانے کے لئے بچھائی گئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK