انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ (آرکام)کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس میں ایک ضمنی پراسیکیوشن شکایت دائر کی ہے۔ ای ڈی نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ ۲۰۰۲ءکے تحت کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 10:00 PM IST | New Delhi
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ (آرکام)کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس میں ایک ضمنی پراسیکیوشن شکایت دائر کی ہے۔ ای ڈی نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ ۲۰۰۲ءکے تحت کی گئی ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ (آرکام)کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس میں ایک ضمنی پراسیکیوشن شکایت دائر کی ہے۔ ای ڈی نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں بتایا کہ یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) ۲۰۰۲ءکے تحت کی گئی ہے۔ ای ڈی کے مطابق یہ ضمنی شکایت ۲۷؍ مارچ کو دائر کی گئی اصل پراسیکیوشن شکایت کے بعد ہفتہ کو داخل کی گئی۔ ضمنی شکایت میں تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی اضافی اور اہم معلومات شامل کی جاتی ہیں۔
۵۵ء۴۰۱۸۵؍ کروڑ کی رقم کا معاملہ
ای ڈی نے بتایا کہ اس کیس میں مبینہ طور پر جرم سے حاصل رقم کی مالیت ۵۵ء۴۰۱۸۵؍ کروڑہے۔ یہ وہ مجموعی بقایا رقم ہے جو قرض لینے والی کمپنیوں نے کنسورشیم بینکوں، مالیاتی اداروں اور بانڈ ہولڈرز کو ادا نہیں کی۔ اس معاملے میں ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ، ریلائنس ٹیلی کام لمیٹڈ (آر ٹی ایل) ، گوتم بھائی لال دوشی، ستیش سیٹھ، امیتابھ جھن جھن والا اور دیگر افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ ملزمان نے فنڈز حاصل کرنے، ان کے استعمال، چھپانے اور انہیں جائز کاروباری لین دین کے طور پر ظاہر کرنے میں مختلف کردار ادا کیے۔
یہ بھی پڑھئے:بسنت اور شاہنواز کی ورلڈ ایتھلیٹکس انڈر۲۰؍ چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی
ایک ارب ڈالرکے ایف سی سی بی فنڈز پر بھی سوال
تحقیقات میں فارن کرنسی کنورٹیبل بانڈز (FCCB) کے ذریعے حاصل کیے گئے تقریباً ایک ارب ڈالر کے فنڈز کے حتمی استعمال سے متعلق مبینہ غلط سرٹیفکیشن بھی سامنے آیا ہے۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران متعدد ایسے لین دین کا پتا چلا جن کے ذریعے قرض کی رقم کو اس مقصد کے بجائے دوسرے کاموں میں استعمال کیا گیا جس کے لیے بینکوں نے قرض منظور کیا تھا۔
پرانے قرضوں کو ’ایورگرین‘ کرنے کا الزام
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق نئی کریڈٹ سہولیات کا مبینہ طور پر بار بار استعمال پرانے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی، انہیں گھمانے اور ’ایورگریننگ‘ یعنی پرانے قرضوں کو مسلسل نئی مالی سہولیات کے ذریعے برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ ای ڈی کے مطابق فنڈز کو مختلف **گروپ کمپنیوں، اسپیشل پرپز وہیکلز (SPVs)، متعدد بینک اکاؤنٹس اور لیکویڈ میوچل فنڈز** کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ایجنسی کا الزام ہے کہ ان لین دین کو بعد میں جائز کاروباری اخراجات یا وصولیوں کے طور پر ظاہر کیا گیا۔
۲۰۰۷ء سے جاری رہنے کا دعویٰ
ای ڈی کے بیان کے مطابق، مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا یہ سلسلہ کم از کم ۲۰۰۷ء سے شروع ہوا اور اس کے بعد بھی مختلف باہم منسلک لین دین کے ذریعے جاری رہا۔ تحقیقات میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ قرض کی رقم کو ریلائنس انفراسٹرکچر لمیٹڈ اور ریلائنس کیپٹل لمیٹڈ سمیت دیگر گروپ کمپنیوں کی جانب منتقل کیا گیا۔ ای ڈی نے مزید الزام لگایا کہ قرض کی رقم کا ایک حصہ پروموٹرز کے لیے ہندوستان سے باہر نجی جائیدادیں خریدنے اور آرکام کے منافع کو مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:ہر کوئی لو ٹرائنگل کرنا چاہتا تھا، ’’دل چاہتا ہے‘‘ کی کاسٹنگ پر فرحان اختر کا انکشاف
دو ملزمین گرفتار، عدالتی حراست میں
ای ڈی کے مطابق اس کیس کے تحت گوتم بھائی لال دوشی کو۱۲؍ جون جبکہ ستیش سیٹھ کو۹؍جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔پی ایم ایل اے کیسز کی خصوصی عدالت نے اس معاملے میں ای ڈی کی اصل پراسیکیوشن شکایت کا۱۵؍ جون کو نوٹس لیتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی تھی۔