مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے جنوری۲۰۱۵ء سے جون۲۰۲۵ء کے درمیان منی لانڈرنگ کے۵؍ ہزار ۸۹۲؍ مقدمات کی تحقیقات کیں جن میں سے صرف آٹھ مقدمات یا۰ء۱؍ فیصد میں سزا سنائیں ۔
EPAPER
Updated: August 01, 2025, 6:42 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے جنوری۲۰۱۵ء سے جون۲۰۲۵ء کے درمیان منی لانڈرنگ کے۵؍ ہزار ۸۹۲؍ مقدمات کی تحقیقات کیں جن میں سے صرف آٹھ مقدمات یا۰ء۱؍ فیصد میں سزا سنائیں ۔
مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے جنوری ۲۰۱۵ء سے جون۲۰۲۵ء کے درمیان منی لانڈرنگ کے۵؍ ہزار ۸۹۲؍ مقدمات کی تحقیقات کیں جن میں سے صرف آٹھ مقدمات یا۰ء۱؍ فیصد میں سزا سنائیں ۔ یونین منسٹر پنکج چودھری نے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ۵؍ہزار ۸۹۲؍ مقدمات میں سے۱۳۹۸؍ پراسیکیوشن شکایات، جن میں ۳۵۳؍ ضمنی شکایات بھی شامل ہیں، خصوصی عدالتوں میں فائل کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ان میں سے اب تک خصوصی عدالتوں نے ۳۰۰؍ پراسیکیوشن شکایات، جن میں ۶۶؍ ضمنی شکایات بھی شامل ہیں، میں فرد جرم عائد کی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’۳۰؍ جون تک، پی ایم ایل اے (PMLA) کی خصوصی عدالتوں نے آٹھ فیصلوں میں ۱۵؍افراد کو سزا سنائی ہے۔ ‘‘چودھری نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ۱۰؍ سال کے دوران ای ڈی نے۴۹؍ مقدمات میں عدالتوں کے سامنے کلوزر رپورٹس جمع کرائیں۔ اس جواب کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے گوکھلے نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزی ایجنسی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کیلئے ایک ’’سیاسی مافیا‘‘ کے طور پر کام کرتی ہے۔
Shocking details given by Modi Govt in Parliament
— Saket Gokhale MP (@SaketGokhale) July 31, 2025
*How ED works as a political mafia for Modi & Shah*
Yesterday, in Parliament, I asked the Modi Govt a question about the number of cases filed by ED that actually went to court for trial.
Here’s the shocking information:
👉In… pic.twitter.com/ppgtvr8Gdu
گوکھلے نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ’’پچھلے۱۰؍ برسوں میں ای ڈی کی طرف سے درج تمام مقدمات میں سے۷۷؍ فیصد مقدمات عدالت تک پہنچے ہی نہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ مودی حکومت نے ای ڈی کو ذاتی مافیا کے طور پر استعمال کیا تاکہ اپوزیشن کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ‘‘راجیہ سبھا کے رکن نے مزید کہا کہ ای ڈی کے مقدمات میں ’’پروسس ہی سزا ہے‘‘ یعنی بے گناہ افراد کو ضمانت لینے میں بھی مہینے لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’عوام کا کروڑوں روپیہ خرچ کرنے اور ہزاروں لوگوں کو جیل میں ڈالنے کے بعد، ای ڈی کی کامیابی کی شرح صرف ۱۳ء۰؍ فیصد ہے۔ ای ڈی مودی اور شاہ کا ایک مجرمانہ نیٹ ورک ہے جس کا کام صرف بی جے پی کیلئے بھتہ خوری اور منی لانڈرنگ کرنا ہے۔ ‘‘
اس سے قبل رواں سال، یونین حکومت نے بتایا تھا کہ گزشتہ۱۰؍ برسوں میں ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور مقامی اداروں کے منتخب نمائندوں کے خلاف ای ڈی کی طرف سے درج۱۹۳؍ مقدمات میں سے صرف دو میں سزائیں ہوئی ہیں۔ ایک سزا ۲۰۱۶ء- ۱۷ء میں اور دوسری سزا۲۰۱۹ء- ۲۰ء میں ہوئی۔