داخلہ اور فیس میں اضافے کے باعث رواں مالی سال کے دوران ملک کے تعلیمی اداروں کی آمدنی میں ۱۱؍ فیصد سے۱۳؍ فیصد کے درمیان اضافے کا امکان ہے۔ یہ بات پیر کے روز جاری کی گئی مارکیٹ ریسرچ اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کرسِل کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 6:31 PM IST | New Delhi
داخلہ اور فیس میں اضافے کے باعث رواں مالی سال کے دوران ملک کے تعلیمی اداروں کی آمدنی میں ۱۱؍ فیصد سے۱۳؍ فیصد کے درمیان اضافے کا امکان ہے۔ یہ بات پیر کے روز جاری کی گئی مارکیٹ ریسرچ اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کرسِل کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
داخلہ اور فیس میں اضافے کے باعث رواں مالی سال کے دوران ملک کے تعلیمی اداروں کی آمدنی میں ۱۱؍ فیصد سے۱۳؍ فیصد کے درمیان اضافے کا امکان ہے۔ یہ بات پیر کے روز جاری کی گئی مارکیٹ ریسرچ اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کرسِل کی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آمدنی میں اضافے کے باوجود اداروں کا آپریٹنگ منافع ۲۷؍تا ۲۸؍فیصد پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نئے ملازمین کی بھرتی، ان کی تنخواہوں اور دیگر متعلقہ اخراجات کو قرار دیا گیا ہے۔
کرسِل کا کہنا ہے کہ اب لوگوں کے پاس خرچ کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی موجود ہے اور وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہوگا جب تعلیمی اداروں کی آمدنی کی شرحِ نمو دوہرے ہندسوں میں رہے گی۔ تاہم، زیادہ طلبہ کے لیے اداروں کو اپنی گنجائش میں بھی توسیع کرنا ہوگی۔ ایجنسی نے کنڈرگارٹن سے بارہویں جماعت تک (کے-۱۲) اور اعلیٰ تعلیم کے مجموعی طور پر ۰۷؍ اداروں کی مالی حالت کے جائزے کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ ان اداروں کی مجموعی سالانہ آمدنی ۲۶؍ ہزار کروڑ روپے ہے۔ اس میں کے-۱۲؍ اداروں کی آمدنی میں ۹؍ سے ۱۰؍ فیصد تک اضافے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں خردہ مہنگائی دسمبر میں ۳۳ء۱؍فیصد رہی
کرسِل ریٹنگز کے ڈائریکٹر ہمانک شرما نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں مجموعی آمدنی میں دوہرے ہندسوں کی ترقی متوقع ہے۔ اس میں بنیادی کردار فیس میں اضافے کا ہے۔ اس کے ساتھ داخلوں میں اضافے کا اثر بھی پڑے گا اگرچہ اس کی رفتار سست رہے گی۔ اس کے باوجود ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر سہولتوں پر بڑھتے اخراجات کے باعث آپریٹنگ منافع میں بہتری نظر نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے:چوٹ کے باعث واشنگٹن سندر باہر، آیوش بدونی ون ڈے ٹیم میں شامل
ابتدائی گراوٹ کے بعد بڑی کمپنیوں میں خریداری
پیر کے روز گھریلو شیئر بازاروں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور ابتدائی کمی کے بعد اہم اشاریے سبز نشان میں بند ہوئے۔ بی ایس ای کے۳۰؍ حصص پر مشتمل سینسیکس میں دن کے دوران ۱۱۰۱؍ پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا۔ صبح کے کاروبار میں یہ۰۷ء۸۲۸۶۱؍ پوائنٹس کی کمی کے بعد دوپہر کے بعد بڑھ کر کر۳۳ء۸۳۹۶۲؍ پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ آخرکار یہ گزشتہ دن کے مقابلے میں ۹۳ء۳۰۱؍ پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ۱۷ء۸۳۸۷۸؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔
نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی۵۰؍ اشاریہ بھی ابتدائی گراوٹ سے سنبھل کر ۹۵ء۱۰۶؍پوائنٹس فیصد اضافے کے ساتھ۲۵ء۲۵۷۹۰؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔ دونوں بڑے اشاریے گزشتہ ہفتے ۵؍ دنوں میں تقریباً ۵ء۲؍ فیصد کم ہو گئے تھے۔