Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا سے بچوں کو بچانے کی کوشش تیز

Updated: August 28, 2026, 8:54 AM IST | Agency | New York

امریکہ میں ۱۸؍ سال سے کم عمر کے نوجوانوں اور بچوں کیلئے دن میں صرف ۲؍ گھنٹے کی ڈیفالٹ حد، رات ۱۲؍ سے صبح ۶؍ بجے تک ایپ بند رہے گی۔

Social media is a losing proposition for children. Picture: INN
بچوں کیلئے سوشل میڈیا نقصان کا سودا ہے۔ تصویر: آئی این این

’میٹا‘ پر بچوں کو سوشل میڈیا کی لت لگانے کا سنگین الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملہ میں میٹا کو مقدمہ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق امریکہ میں بچوں اور نوعمروں کی حفاظت سے متعلق ایک بڑے مقدمے کو ختم کرنے کیلئے میٹا نے سمجھوتہ کرلیا  ہے۔میٹااس معاملے میں تقریباً ۱۷؍ارب ڈالر ادا کرے گی اور بچوں کیلئے اپنی دونوں ہی ایپس میں کئی بڑی تبدیلیاں کرے گی۔ ان میں فیس بک اور انسٹاگرام پر ملا کر دن میں ۲؍ گھنٹے کی ڈیفالٹ حد اور رات ۱۲؍ بجے سے صبح ۶؍ بجے تک بچوں کے  ذریعے ایپ کے استعمال پر پابندی شامل ہے۔ دراصل امریکہ کی کئی ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے ۲۰۲۳ء میں میٹا پر مقدمہ کیا تھا۔ الزام تھا کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام میں ایسے فیچر بنائے ہیں، جن سے بچوں اور نوعمروں کے ذریعہ ان ایپس کا استعمال ضرورت سے زیادہ بڑھ رہا  ہے۔ ریاستوں کا کہنا تھا کہ اس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچ رہا  ہے۔   

یہ بھی پڑھئے: شام: امریکی پابندیاں ہٹنے کے بعد صدر احمد الشرع نے پہلی ویزا ادائیگی کی

بہرحال، فیس بک اور انسٹاگرام میں سب سے بڑی تبدیلی  ۱۸؍ سال سے کم عمر صارفین کیلئے ہوگی۔ ان کے  لئے دن میں ۲؍گھنٹے کی حد طے کی جائے گی۔ یعنی بچے اور نوعمرافراد فیس بک اور انسٹاگرام کو ملا کر روزانہ ۲؍ گھنٹے ہی دیکھ سکیں گے۔ اس ڈیفالٹ کو تبدیل کرنے کیلئے والدین کی اجازت ضروری ہوگی۔ دونوں ایپس پر گزارا گیا وقت اسی مجموعی حد میں شمار ہوگا۔ اس کے علاوہ  ایک بڑی تبدیلی یہ کی جائے گی کہ رات میں ایپس بند رہیں گی۔ رات ۱۲؍ بجے سے صبح ۶؍ بجے تک نوعمر افراد فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں صبح ۸؍بجے سے دوپہر ۳؍بجے تک ڈیفالٹ طور پر نوٹیفکیشن ’’میوٹ‘‘ رہیں گے۔ تاہم براہ راست پیغامات اور سیکوریٹی سے متعلق ضروری الرٹ آتے رہیں گے۔ایک خاص تبدیلی یہ بھی کی جائے گی کہ مسلسل استعمال کے دوران نوعمروں کو باقاعدگی سے وقفہ لینے کیلئے’’ ریمائنڈر‘‘ دکھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ عمر کی جانچ کے لئے زیادہ سخت ٹیکنالوجی، آسان پیرنٹل کنٹرول اور بچوں کو نقصان پہنچانے والے مواد سے بچانے کیلئے اضافی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔ کچھ ایسے فیچر بھی محدود کئے جائیں گے جن پر بچوں کی ذہنی صحت کو لے کر سوال اٹھتے رہے ہیں، جیسے پبلک لائک اکاؤنٹ اور کچھ بیوٹی فلٹرز۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کی جانب سے حملوں کی دھمکی کے بعد معصوم فلسطینی بچہ اپنی پسندیدہ پتنگیں پھاڑنے پر مجبور

آسٹریلیا
آسٹریلیا نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے تمام طرح کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔

انڈونیشیا
مارچ ۲۰۲۶ء میں انڈونیشیا نے۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے ٹک ٹاک، فیس بک ، انسٹا گرام اور یوٹیوب پر پابندی عائد کردی تھی۔

فرانس 
 فرانس نے ۱۵؍ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ پابندیاں  اگلے ماہ ستمبر سے نافذ ہو جائیں گی۔ 

برطانیہ
برطانیہ نے بھی اپنے یہاں ایسی ہی پابندیوں کی تجویز پیش کی ہے جس پر ملک میں بحث جاری ہے۔ پابندیاں اگلے سال سے نافذ ہوں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK