Updated: August 27, 2026, 5:36 PM IST
| Damascus
شام کے صدر احمد الشرع نے دمشق کے قدیم شہر کے ایک ریستوران میں ویزا کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرکے ملک کے عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جڑنے کی سمت ایک اہم علامتی قدم اٹھایا ہے۔ یہ ادائیگی بدھ کو ہوئی اور شام کے مرکزی بینک کے گورنر صفوت رسلان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ویزا نے بھی شام میں پہلی لائیو بین الاقوامی کارڈ ٹرانزیکشن کامیابی سے آزمانے کی تصدیق کی ہے۔
شام کے صدر احمد الشرع۔ تصویر: آئی این این
شام کے صدر احمد الشرع نے دمشق کے قدیم شہر کے ایک ریستوران میں ویزا کارڈ سے ادائیگی کرکے ملک کے عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جڑنے کی کوشش میں ایک اہم علامتی قدم اٹھایا ہے۔ یہ ادائیگی بدھ کو ہوئی اور شام کے مرکزی بینک کے گورنر صفوت رسلان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اسی دوران عالمی ڈجیٹل ادائیگی کمپنی Visa نے شام میں پہلی لائیو بین الاقوامی کارڈ ٹرانزیکشن کامیابی سے آزمانے کا اعلان کیا۔ کمپنی نے بتایا کہ اس تجربے میں شام کے مرکزی بینک کے علاوہ لبنان کے Fransabank اور Paymera نے تعاون کیا۔
ویزا کے مطابق کامیاب ٹرانزیکشن شام میں ڈجیٹل ادائیگیوں کے دائرے کو وسیع کرنے اور ملک کو عالمی ڈجیٹل معیشت سے دوبارہ جوڑنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک بھر میں تمام ویزا کارڈز کی قبولیت فوری طور پر شروع ہوگئی ہے؛ موجودہ مرحلہ بنیادی طور پر کامیاب آزمائشی ٹرانزیکشن اور مستقبل میں بین الاقوامی کارڈ استعمال کی تیاری سے متعلق ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے ۲۴؍ اگست کو شام کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے باضابطہ طور پر نکال دیا۔ شام ۱۹۷۹ء سے اس فہرست میں شامل تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس فیصلے کو صدر احمد الشرع کی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی دہشت گردی سے دوری کے اقدامات سے جوڑا۔
اس فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے شام پر امریکی مالی امداد، دفاعی برآمدات، بعض دوہرے استعمال کی اشیا اور مالی لین دین سے متعلق سخت پابندیاں عائد تھیں۔ واشنگٹن کی جانب سے نام نکالے جانے کے بعد بین الاقوامی بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لیے شام کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے کی راہ نسبتاً آسان ہوئی ہے۔ شام کے مرکزی بینک کے گورنر صفوت رسلان نے پہلی ویزا ادائیگی کو ’’نئی شروعات‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ادائیگی کے نظام میں انضمام اور جدید مالیاتی ڈھانچے کی تعمیر شام کی مالیاتی خدمات کو جدید بنانے کے لیے اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پولی مارکیٹ میں ٹائم پرسن آف دی ایئر کیلئےٹرمپ کے حریف آگے
احمد الشرع نے اسی روز دمشق میں ۶۳؍ ویں دمشق انٹرنیشنل فیئر کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ پابندیاں ہٹنے کے بعد شام تعمیر نو اور ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ انہوں نے شام کو مشرق اور مغرب کے درمیان تجارتی راہداری اور اقتصادی مرکز کے طور پر دوبارہ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ شام کی عالمی مالیاتی نظام میں واپسی کے اقدامات گزشتہ چند ماہ سے تیز ہوئے ہیں۔ ویزا نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں شام کے مرکزی بینک کے ساتھ ڈجیٹل ادائیگیوں کی بحالی کے لیے روڈ میپ پر کام شروع کیا تھا، جبکہ دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی ملک میں دوبارہ سرگرمیوں کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی پابندیوں میں نرمی کے باوجود شام پر تمام نوعیت کی پابندیاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ واشنگٹن نے سابق صدر بشار الاسد اور ان کے ساتھیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق بعض افراد، منشیات کے اسمگلروں اور داعش و القاعدہ سے وابستہ عناصر سمیت مخصوص افراد اور گروہوں کے خلاف پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔