Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصر: توانائی بحران میں کمی کے بعد دکانوں کے اوقات پر پابندی ختم

Updated: April 27, 2026, 6:12 PM IST | Cairo

مصر نے ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے پیش نظر نافذ کیے گئے ہنگامی اقدامات میں نرمی کر دی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب دکانوں، مالز اور ریستورانوں کو رات ۱۱؍ بجے بند کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال بہتر ہونے اور ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد علاقائی کشیدگی میں کمی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مصری حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے گزشتہ ماہ نافذ کیے گئے سخت اقدامات میں نرمی کرتے ہوئے کاروباری اوقات کار بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، دکانوں، شاپنگ مالز اور ریستورانوں کو اب دوبارہ معمول کے اوقات کے مطابق کھلے رہنے کی اجازت ہوگی، اور رات ۱۱؍ بجے لازمی بندش کا فیصلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں اس وقت نافذ کی گئی تھیں جب آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں مصر کو شدید ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے حکومت کو توانائی بچانے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کے اوقات محدود کرنے پر مجبور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈس: ۱۸۰؍ فٹ لمبی سائیکل نے گنیز ریکارڈ قائم کیا

تاہم حالیہ دنوں میں حالات میں بہتری آئی ہے، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے۔ اس پیش رفت نے توانائی کی سپلائی چین پر دباؤ کو کم کیا، جس کے نتیجے میں مصر نے اپنی پالیسی پر نظرثانی کی۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ ملک اب ’’پہلے سے لاگو عام کام کے اوقات‘‘ کی طرف واپس جا رہا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کی نسل کشی کے منکر ہولوکاسٹ کے انکار کرنے والوں سے بھی بدتر: اسرائیلی مصنفہ

ماہرین کے مطابق، مصر جیسے ممالک، جو بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں، خاص طور پر جب بات آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی ہو، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ نرمی کو عارضی قرار دیا جا رہا ہے، اور حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ اقدامات کیے جا سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK