خلافت کمیٹی کے ۱۰۷؍ ویں جلوس عید میلاد میں قائدین اور شرکاء کا والہانہ استقبال، نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت کی گونج ،عالم دین مولانا خلیق اشرف نے قیادت کی ، رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی مہمان خصوصی تھے۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 9:03 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
خلافت کمیٹی کے ۱۰۷؍ ویں جلوس عید میلاد میں قائدین اور شرکاء کا والہانہ استقبال، نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت کی گونج ،عالم دین مولانا خلیق اشرف نے قیادت کی ، رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی مہمان خصوصی تھے۔
امام الانبیاء حضرت محمدؐ کی دنیا میں تشریف آوری کی مناسبت سے بدھ ۲۶؍ اگست کو انتہائی جوش وخروش کے ساتھ نکالے گئے جلوس عید میلادالنبیؐ میں امن وآشتی، محبت وبھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام دیا گیا۔ اس موقع پر مسلم محلوں میں الگ الگ انداز میں سجاوٹ کی گئی تھی۔ برقی قمقموں کے علاوہ گھروں ، دکانوں اور راستوں پر پرچم آویزاں کئے گئے تھے۔آل انڈیا خلافت کمیٹی کے زیراہتمام امسال نکالے جانے والے ۱۰۷؍ ویں جلوس عید میلادالنبی میں شرکاء کا اژدہام نظر آیا۔ ہنس روڈ، بائیکلہ، مدن پورہ، ناگپاڑہ جنکشن ، مستان تالاب، جے جے جنکشن، بھنڈی بازار اور محمد علی روڈ وغیرہ پر قائدین اور شرکاء جلوس کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس دوران پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔ راستے بھر پولیس کے جوان پہرہ دیتے نظر آئے۔ جلوس میں سب سے آگے پریس کی گاڑی تھی جس میں مختلف زبانوں کے اخبارات کے سینئر صحافی اور یوٹیوبرس موجود تھے۔ مہمانان اور قائدین کھلی جیپ پر سوار تھے ۔خلافت ہاؤس سے نکل کر یہ جلوس انسانی سمندر میں تبدیل ہوگیا۔جلوس کی قیادت جامعہ اشرفیہ کے حضرت علامہ خلیق اشرف نے کی جبکہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی، مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سچن اہیر، رکن اسمبلی امین پٹیل، سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان، فرحان اعظمی، جمشید قریشی، این سی پی اقلیتی شعبہ کے لیڈر رشید خان، مولانا فریدالزماں، ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر، نظام الدین راعین، اقبال میمن افسر سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور ملی شخصیات نے شرکت کی۔
تاریخی جگہ تاریخی موقع اور تاریخی دن ہے
جلوس میں مہمان خصوصی رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اپنے خطاب کا آغاز قتیل شفائی کے نعتؐ کے شعر سے کیا ۔انہوں نے خلافت ہاؤس کے تاریخی پس منظر میں کہا کہ میں اس سر زمین پر کھڑا ہوں جہاں سے خلافت تحریک شروع ہوئی اور جنگ آزادی وطن کی تحریک کو آگے بڑھایا گیا۔ اگر ہم اس کے ماضی میں جائیں گے تو کہیں گاندھی جی کھڑے نظر آئیں گے، کہیں مولانا ابوالکلام آزاد تو کہیں سروجنی نائیڈو تو کہیں مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر اور دیگر لیڈران نظر آئیں گے۔ خلافت ہاؤس ان معنوں میں وہ تاریخی جگہ ہے جہاں آپ ہر سال ۱۲؍ ربیع الاول کو نفرتوں کو توڑ کر ایک ہوتے ہیں ، یہی تو ہندوستان کی ضرورت ، اس کی خوبصورتی اور پہچان ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے مزید کہا کہ یہ ہمارا وطن ہے اور سب نے مل کر آزادی کی لڑائی لڑی اور وطن کو آزاد کرایا ۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ مسلمانوں کی قربانیاں اوروں سے کہیں زیادہ ہیں، اس لئے پل پل اس کا اظہار کیجئے۔
جلوس کا مقصد ہےبہتر انسان بنئے
قائد جلوس بزرگ عالم دین مولانا خلیق اشرف (گونڈہ، یوپی) نے رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی روشنی میں یہ پیغام دیا کہ سب سے اچھا مسلمان وہی ہے جو سب سے اچھا انسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج جلوس اسی وقت کامیاب کہلائے گا جب آپ سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔ ایمبولینس جائے تو اسے راستہ دیجئے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ میلادالنبیؐ منانے کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے کردار کو سیرتِ رسول ؐ کے مطابق بنائیں۔ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، بیماروں کی خبرگیری کریں، کمزوروں کا سہارا بنیں اور اپنے عمل سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ظاہر کریں۔ انہوں نے جلوس کے شرکاء سے خصوصی اپیل کی کہ راستے میں کسی شخص کو تکلیف نہ پہنچائیں، بیمار یا ضرورت مند کے لئے راستہ کھلا رکھیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ وہ رحمت للعالمینؐ کے امتی ہیں۔
نفرت مٹے محبت بڑھے دیش ترقی کرے
سینئر لیڈر سچن آہیر نے کہا کہ محمد صاحب نے امن وشانتی کا اور امن وبھائی چارہ کا پیغام دیا ، اسی پیغام کو ہم سب اپناتے اور آگے بڑھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ممبئی میں تاریخی جلوس ایسے علاقوں سے گزرتا ہے جہاں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سمیت مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں ۔انہوں نے اسے ممبئی کی گنگا جمنی تہذیب اور ہندوستان کی حقیقی خوبصورتی قرار دیا۔
عید میلاد پر اہم شخصیات کی مبارکباد
عید میلاد النبی ؐ کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن ،وزیر اعظم مودی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اہل وطن خصوصاً مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعظم مودی نے ٹویٹ کیا کہ’’ عید میلاد النبیؐ مبارک ۔مجھے امید ہے کہ یہ تہوار معاشرے میں اتحاد کو فروغ دے گا اور ہر طرف خوشیاں پھیلائے گا۔‘‘
درگاہ حضرت بل میں عقیدت مندوں کا ہجوم
عید میلاد کشمیر میں بھی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی ۔ اس دوران ہزاروں عقیدت مندوں نے سری نگر میں واقع درگاہ حضرت بل میں حاضری دی۔ حکام نے بتایا کہ عقیدت مندوں نے اس درگاہ پر نماز ادا کی، جہاں پیغمبر اسلام کی مقدس تبرکات موجود ہیں۔ نماز کے بعد درگاہ میں موجود ہزاروں عقیدت مندوں کے لئے موئے مقدس کی زیارت بھی کروائی گئی۔
ملک کے دیگر حصوں میں بھی جشن
عید میلاد النبیؐ کےموقع پر ملک کے اہم شہروں اور قصبات میں بھی جلوس نکالے گئے۔ دہلی ، جے پور ، لکھنؤ،احمد آباد، بھوپال ،رائے پور، حیدر آباد،بنگلور ، رانچی ، پٹنہ اور کولکاتا میں بھی روایتی تزک و احتشام کے ساتھ جلوس نکالے گئے اور جشن منایا گیا۔ اس دوران شرکاء نے مکمل نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جلوس کو مثالی بنائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔