• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی مداخلت پر بھی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اتحادی نہیں بنیں گے: رپورٹ

Updated: November 03, 2026, 12:06 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے، تاہم گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

Gadi Eisenkot. Photo: X
گادی آئزنکوٹ۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کی یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ذاتی طور پر ان سے ایسا کرنے کی درخواست کریں تب بھی وہ اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے ’کان‘ (KAN) نے یہ اطلاع دی ہے۔ نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آئزن کوٹ نے ایک بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ کے دوران یہ بات کہی۔ ان کے بقول، ’’میں نیتن یاہو کی قیادت والی حکومت میں شامل نہیں ہوں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: زمین تقسیم ہورہی ہے! دو براعظموں کے درمیان ایسی دراڑ جہاں تیراکی ممکن

انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ٹرمپ مجھے دعوت دیتے ہیں تو میں صدر کا احترام کرتے ہوئے ان سے ملاقات کے لیے جاؤں گا، لیکن اس بات پر زور دوں گا کہ یہ اسرائیل کا اندرونی معاملہ ہے اور میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو روکوں گا۔‘‘ واضح ہو کہ آئزن کوٹ کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو نے کسی بھی وسیع البنیاد حکومت کی قیادت خود کرنے پر اصرار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عربوں کی دو بڑی جماعتوں، رعام (Ra’am) اور جوائنٹ لسٹ (Joint List) کی حمایت پر منحصر کسی بھی مخلوط حکومت کو مسترد کردیا ہے۔

مشاورت کا عمل تعطل کا شکار

اسرائیل کی اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہوگئی ہیں کہ صدر اسحاق ہرزوگ سے سفارش کی جائے کہ وہ اگلی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری گادی آئزن کوٹ کو سونپیں۔ اس سلسلے میں بدھ اور جمعرات کو سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع ہونے والی ہے۔ یائر گولان کی جماعت ڈیموکریٹس نے پیر کو آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس سے قبل نفتالی بینیٹ کی جماعت ’ٹوگیدر‘ اور ایوگڈور لائبرمین کی جماعت ’اسرائیل بیتینو‘ بھی ان کی حمایت کا اعلان کرچکی ہیں۔ جوائنٹ لسٹ اور رعام کی متوقع حمایت کے بعد آئزن کوٹ کو ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے ۶۷؍ ارکان کی سفارشات مل سکتی ہیں، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو ۵۳؍ ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ’لیٹر مڈوائف‘ فریش برانڈٹ نے ہاتھ سے خط لکھنے کی اہمیت اجاگر کی

واضح رہے کہ گزشتہ منگل کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں پارلیمان میں کسی ایک اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ نیتن یاہو کے اتحاد نے مجموعی طور پر ۵۳؍ نشستیں حاصل کیں، جن میں لیکوڈ کی ۲۷؍، یونائیٹڈ تورات یہودیت اور اوتزما یہودیت کی ۷، ۷؍ جبکہ شاس اور ریلیجس زیونزم کی ۶، ۶؍ نشستیں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK