شیو سینا(یوبی ٹی) کے لیڈر پردیپ پورنیکر کے بہیمانہ قتل کے کلیدی ملزمین کو گرفتار کرنے کیلئے احتجاج میں شامل ہونے والے لڑکوں اور نوجوانوں کو پولیس حراست میں زدوکوب کرنے اور جنسی ہراسانی کے خلاف پیر کو مہا وکاس اگھاڑی(ایم وی اے) اور مہاراشٹر نونرمان سینا( ایم این ایس) کے لیڈروں اور کارکنان نے کاپر باؤڑی پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا۔
مظاہرین کا پرباؤڑی پولیس اسٹیشن پر احتجاج کررہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
شیو سینا(یوبی ٹی) کے لیڈر پردیپ پورنیکر کے بہیمانہ قتل کے کلیدی ملزمین کو گرفتار کرنے کیلئے احتجاج میں شامل ہونے والے لڑکوں اور نوجوانوں کو پولیس حراست میں زدوکوب کرنے اور جنسی ہراسانی کے خلاف پیر کو مہا وکاس اگھاڑی(ایم وی اے) اور مہاراشٹر نونرمان سینا( ایم این ایس) کے لیڈروں اور کارکنان نے کاپر باؤڑی پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا۔ اس احتجاج کی قیادت راجن وچارے (شیوسینا یوبی ٹی)، منوج پردھان اور جتیندر اوہاڑ (این سی پی شردپوار)، راہل پنگلے (کانگریس) اور اویناش جادھو (ایم این ایس) نے کی۔
مظاہرین میں پردیپ پورنیکر کے اہلِ خانہ اور مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین کا الزا م ہے کہ پولیس ایسے نوجوانوں کو بے رحمی سے پیٹا ہے جو احتجاجی مظاہرے میں شریک بھی نہیں تھے۔ اس مظاہرے کے سبب پولیس کمشنر نے ۳؍ پولیس ہلکاروں کا فوری تبادلہ کر دیا ہے۔
مظاہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مطالبے کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی توتھانے میں اس سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا۔واضح رہے کہ پردیپ پورنیکر کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ اس قتل میں سابق میئر میناکشی شندے اور ان کے شوہر راجندر شندے کلیدی ملزمین ہیں ، لہٰذا انہیں گرفتارکیاجانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: مودی غیر ملکی مدد سے وزیراعظم بنے اور اسی کے سہارے اقتدار میں ہیں: راہل گاندھی
مورچہ نکالنے کی وجوہات
پولیس حراست میں تشدد اور غیر انسانی سلوک : شیوسینا (یوبی ٹی) کے آنجہانی لیڈر پردیپ پورنیکر عرف بالو کے قتل کے خلاف کچھ دن پہلے ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے کومبنگ آپریشن کر کے کچھ مقامی نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا۔ الزام ہے کہ کاپر باؤڑی پولیس نے ان بے قصور نوجوانوں کو برہنہ کر کے بیلٹ سے بری طرح زدوکوب کیا، انہیں ’تھرڈ ڈگری ٹارچر‘ کیا گیا اور انہیں جنسی طورپر ہراساں کیا گیا۔
طبی رپورٹ اور کارروائی کا مطالبہ: جب متاثرہ نوجوانوں کی میڈیکل رپورٹ میں اس بہیمانہ تشدد کی تصدیق ہوئی تو اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے کارکنان میں شدید ناراضگی پھیل گئی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کئے جائیں اور انہیں معطل کیا جائے۔
۳؍ پولیس اہلکاروں کا تبادلہ
سیاسی جماعتوں کے اس شدید احتجاج اور دباؤ کے بعد سینئر پولیس افسران نے مداخلت کی ہے اور ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے۳؍ پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر کنٹرول روم منتقل کر دیا ہے اور اس معاملے کی مزید انکوائری کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔