• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہائی کورٹ کے احکامات، شکایات اور احتجاج کے باوجود شہر میں فضائی، صوتی اور آبی آلودگی برقرار

Updated: November 03, 2026, 12:30 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

بی ایم سی نے کہا کہ موسم سرما میں دھول ، مٹی اور کہرے ،تعمیراتی کام ، گاڑیوں اوردھول مٹی بھی فضائی آلودگی کا اہم سبب ہیں ۔عدالت نے برسوں سے دی جاری ہدایت عمل نہ کرنے کو مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ ، بی ایم سی اورمتعلقہ محکموں کو فضائی آلودگی کا ذمہ دار قرار دیا۔

Bombay High Court building. Photo: INN
بامبے ہائی کورٹ کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

شہر و مضافات میں فضائی، صوتی اور آبی آلودگی کی کئی وجوہات اور اسباب ہیں ۔اس پر قابو پانے کیلئےجہاں بارہا داخل کردہ عرضداشتوں پر شنوائی کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نےکئی ہدایات جاری کی ہیں  وہیں مجموعی طور پر فضائی آلودگی، مختلف مذہبی جلوسوں کے دوران شور، تیز روشنی والے اشتہاری بورڈوں، مورتیوں سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل پر   ہائی کورٹ مسلسل سخت موقف اختیار کر تا آرہاہے، اس کے باوجود حکام کی جانب سے عدالتی ہدایات پر عمل درآمد میں تاخیر اور نگرانی کے نظام میں خامیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہر کو آلودگی سے پاک رکھنے کیلئے محض کاغذات میں آلودگی پر قابو پانے کے ضمن میں کئے گئے اقدامات کو ظاہر کیا گیا لیکن حقیقت میں ان پر موثر اور مسلسل عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

حالیہ سماعت میں تہواروں کے دوران صوتی ،فضائی اور آبی آلودگی پر قابو پانے میں ناکامی پر بامبے ہائی کورٹ نے سخت سرزنش کرتے ہوئے مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ ، برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن اور ممبئی پولیس سے کہا کہ ’’مذکورہ ادارے اور ریاستی حکومت دراصل شہر کو آلودگی سے پاک رکھنے کے سلسلہ میں آنکھیں موند لیتے ہیں اور بارہا دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرکے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔بظاہر وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوںنے خصوصی طور پر تہواروں کے دوران بھی فضائی ، صوتی اور آبی آلودگی پر قابو پانے میں ٹھوس اقدامات کئے ہیں ۔ اس کے بر عکس مذکورہ ایجنسیاں نہ توگنپتی ، نوراتری یا دیگر مذہبی تہواروں کے موقع پر مورتیوں کے وسرجن کے سبب پیدا ہونے والی آبی آلودگی پر، نہ ڈھول تاشوں کے شور سے پیدا ہونے صوتی آلودگی پر اور نہ ہی پٹاخوں سے ہونے والی فضائی آلودگی کو ختم کرنے میں یا اس پر پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دیوالی کے تہوار پر خریداروں میں کمی، دکاندار فکرمند

عدالت نے اس بات پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا کہ کسی بھی مذہبی تہوارکے دوران آلودگی کی خلاف ورزی کرنے پر نہ تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے اور نہ ہی نوٹس جاری کرکے وارننگ دی جاتی ہے ۔ دوران سماعت بی ایم سی کے چیف انجینئر ( محکمہ ماحولیات و موسمیات ) اویناش کاٹے نے بتایا کہ ’’ یہ بات سچ ہے کہ تہواروں کے موقع پر نہ صرف یہ کہ شہری بلکہ مختلف مذہبی جلوس نکالنے والے آرگنائزر بھی صوتی ، فضائی، ماحولیاتی اور آبی آلودگی کا سبب بنتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں کئی آرگنائزرس کے خلاف نہ صرف کارروائی کی جاتی ہے بلکہ کئی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ 

بی ایم سی انجینئر نے شہر اور مضافات میں ہونے والے سرکاری  اورغیر سرکاری تعمیرات کے دوران عدالت کے جاری کردہ ہدایت اور بی ایم سی  اور دیگر متعلقہ محکمہ کے عائد کردہ احکامات کے باوجود بڑے پیمانے پر جاری کردہ قواعد اور ہدایات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ یہی نہیں شہر میں پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور سڑکوں پر دھول مٹی کے سبب بھی فضائی آلودگی کا مسئلہ برقرار ہے، اس کے باوجود ان پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھی سخت کارروائی کی جارہی ہے۔

اس پر کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں محض حلف نامہ داخل کردینا مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ اس سلسلہ میں کئے جانے والے سنجیدہ اقدامات نظر آنے چاہئیں ۔کورٹ نے کہا کہ شہر و مضافات میں دھول ، مٹی ، گاڑیوں کے دھوئیں ، پٹاخے ، ڈھول تاشے کے ساتھ ساتھ شہر میں جا بجا پایا جانے والے کوڑا کرکٹ اور ڈمپنگ گراؤنڈ میں پھیلی بدبو بھی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے ۔کورٹ نےبی ایم سی ، مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ اور پولیس کومذکورہ مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئےاسے حل کرنے میں بری طرح ناکام ہونے کا بھی قصوروارقراردیا ۔ بعد ازیں کورٹ نے ایک بار پھر آلودگی سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK