فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلراسوسی ایشن نے کہا کہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز سے مسابقت اور بڑی تعداد میں شاپنگ نمائشوں کے انعقاد سے کاروباربری طرح متاثرہوا ہے۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 12:26 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلراسوسی ایشن نے کہا کہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز سے مسابقت اور بڑی تعداد میں شاپنگ نمائشوں کے انعقاد سے کاروباربری طرح متاثرہوا ہے۔
عنقریب دیوالی کے تہوار کے باوجود بازار میں خریداروںمیں کمی سے دکانداربے حد پریشان ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی خریدار نہ ہونےسےمتعلق ’ریلز‘ گشت کررہی ہیں ۔کاروبار نہ ہونےکی شکایات مل رہی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ دیوالی میں ایسی مندی کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ اس کی متعدد وجوہات بتائی جارہی ہیںجن میں مہنگائی کے علاوہ آن لائن کاروبار اور ایگزبیشن کی بھرمارکواہم وجہ بتایاجارہاہے۔
دیوالی کے موقع پر ۵۰؍ سے ۷۰؍ فیصد کاروبار متاثر سے تاجروں میں بےچینی پائی جا رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آن لائن اور شاپنگ ایگزبیشن سے خریدے گئے مال کی گارنٹی نہیں ہوتی، نہ ہی وہ جی ایس ٹی وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں جبکہ ہم بڑی بڑی دکانوں سے کاروبار کر رہے ہیں ،گارنٹی دیتے ہیں، سال بھر دیوالی میں کاروبار ہونے کا انتظار کرتے ہیں، اگر اسی طرح نقصان ہوتا رہا تو ہم کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلراسوسی ایشن کے سیکریٹری ہرن مہتا نے کہا کہ ’’آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز سے مسابقت میں اضافہ ہوا ہے ۔ آن لائن کمپنیاں تہوار کی شاندار پیشکشوں، بھاری رعایتوں اور پرکشش اسکیموں کے ساتھ صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ حکومت ڈجیٹل کامرس کو بھی فروغ دے رہی ہے جو اچھی بات ہے لیکن کیا روایتی خردہ فروشوں کے مفادات کا تحفظ کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے ؟آج ممبئی کے بازاروں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ دکانیں کھلی ہیں، سامان رکھا ہے، دکاندار پوری طرح تیار ہیں لیکن گاہکوں کا انتظار ختم ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے دیوالی پر ہونے والا ہمارا کاروبار ۵۰؍فیصد سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مداخلت پر بھی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اتحادی نہیں بنیں گے: رپورٹ
‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تہواروں کا موسم اب صرف آخری ۸؍ دن تک محدود ہو گیا ہے ۔اس سے پہلے دیوالی اور دیگر تہواروں کی خریداری ایک یا ۲؍ ماہ قبل شروع ہو جاتی تھی۔ آج زیادہ تر صارفین آخری لمحے تک انتظار کرتے ہیں ،اس سے بھی ہمارے کاروبار کوبڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘ہیرن مہتاکے بقول’’ہم چاہتےکہ ہیںکہ حکومت آن لائن پلیٹ فارمز اور روایتی خردہ فروشوں کیلئے منصفانہ مواقع کو یقینی بنائے ۔ نمائش میں کاروبار کرنے والے تمام اسٹال ہولڈرز کیلئے جی ایس ٹی اور دیگر قابل اطلاق ٹیکس ضوابط کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنایا جائے ۔ تہواروں کے موسم میں مقامی خردہ بازاروں اور دکانداروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی اسکیمیں تیار کی جائیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے خردہ فروشوں کو آن لائن کمپنیوں سے مقابلہ کرنے کیلئے مناسب سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں ۔‘‘
گھاٹ کوپر میںواقع کپڑوں کے شوروم ’نیل کنٹھ‘ کے مالک ویراج کوٹھاری نے انقلا ب کو بتایاکہ ’’ گزشتہ ۱۵؍سے ۲۰؍دنوں میں شہر ومضافات میں سیکڑوں نمائشیں لگائی گئیں ۔متعدد تاجر وہاںا سٹال لگا کر اچھا کاروبار کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جی ایس ٹی رجسٹریشن اور ٹیکس کے ضوابط ان تمام منتظمین اور اسٹال ہولڈرز کیلئے یکساں طور پر نافذ ہیں؟ دوسری طرف مستقل خردہ فروش دکانوں کا کرایہ، عملے کی تنخواہیں، بجلی کے بلوں، جی ایس ٹی اور دیگر تمام ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے ادا کر کے اپنا کاروبار چلاتے ہیں پھر بھی، انہیں مسابقت کا سامنا ہے، جہاں ضوابط کی تعمیل کرنے کی ذمہ داری یکساں طور پر نافذ نہیں ہوتی،کیا یہ ہم جیسے کاروباریوںکے ساتھ انصاف مانا جائے گا ؟ان نمائشوںکی وجہ سے دیوالی کے موقع پر ہونے والا میرا کاروبار تقریباً ۷۰؍ فیصد کم ہوگیا ہے ۔‘‘
’’ہمیں کاروبار بند کرنے کے بارے میں سوچناپڑسکتاہے‘‘
ویراج کوٹھاری نےیہ بھی کہا کہ ’’ہم سال بھر دیوالی کا انتظار کرتےہیں ، اگراس موقع پر بھی کاروبار نہیں ہوگا تو مجبوراً ہمیںکاروبار بند کرنے کےبارے میں سوچنا پڑسکتا ہے ۔ ہم آن لائن تجارت اور نمائشوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن کاروباری قوانین سب کیلئے برابر ہونے چاہئیں ۔ دکانداروں کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ جو سال بھر دکان کا کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں، جی ایس ٹی اور مختلف سرکاری ٹیکس ادا کر کے بازار کو زندہ رکھتے ہیں۔‘‘