ریتو تائوڑے نے کہا کہ اداکارہ نےیکساں سول کوڈ، وزیر اعظم کے بیان، نرمدا پروجیکٹ کی مخالفت کی تھی۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 12:38 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ریتو تائوڑے نے کہا کہ اداکارہ نےیکساں سول کوڈ، وزیر اعظم کے بیان، نرمدا پروجیکٹ کی مخالفت کی تھی۔
فلم اداکارہ دیا مرزا کی آلودگی سے پاک دیوالی منانے کی درخواست کے ویڈیو کو بی جے پی کے دبائو میں آکر بی ایم سی کے ’ایکس‘ کے آفیشیل اکائونٹ سے ہٹادیا گیا ہے جس سے ممبئی میں سیاست گرم ہوگئی ہےاور اداکارہ کے حق اور ان کی مخالفت میں پیر کو کئی بیانات سامنے آئے۔ ممبئی کی میئر نے اپنے عہدے کا پاس نہ رکھتے ہوئے پریس کانفرنس منعقد کرکے متنازع بیان دیا کہ دیا مرزا نے ماضی میں جو بیانات دیئے ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہندوتوا مخالف ہیں اس لئے ان کا ویڈیو ہٹوایا گیا ہے۔
میئر ریتوتاؤڑےنے یہ بھی کہا کہ بی ایم سی افسران بہت سے کام میئر اور کارپوریٹروں کو بتائے بغیر کرتے ہیں اور متذکرہ ویڈیو بھی انہیں اطلاع دیئے بغیر پوسٹ کیا گیا تھا۔ اب یہ ہٹانا پڑا ہے تو یہ ان (شہری انتظامیہ) کی ہار ہے اور مستقبل میں وہ انہیں بتا کر ہی کوئی کام کریں گے۔ ان کے مطابق انہیں اور کارپوریٹروں کو ان شخصیات کی فہرست مہیا کرائی جانی چاہئے تھی جن کے ویڈیو پوسٹ کئے جانے تھے۔
بی جے پی کارپوریٹر اور ممبئی میئر ریتو تائوڑے نے پیر کو بی ایم سی کے ہیڈ آفس میں ہی پریس کانفرنس بلائی اور کہا کہ ’’دیا مرزا کا اگر ہم پورا پروفائک دیکھیں تو انہوں نے نرمدا، یکساں سول کوڈ ، ماحولیاتی بحران جس کیلئے ہم کام کررہے تھےاور ملک کے وزیر اعظم کے بیان کی مخالفت کی ہے۔‘‘ میئر کے مطابق ہر مرتبہ ان کی مخالفت ہندوتوا کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہندوئوں کو دیوالی کیسے منانی ہے وہ دیا مرزا سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے: پولیس کے تشدد کیخلاف ایم وی اے اور ایم این ایس کا پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ
جب ریتو تاوڑے سے پوچھا گیا کہ دیا مرزا نے یہ پیغام دینے کیلئے پیسے نہیں لئے اور وہ خاتون بھی ہیں تو خاتون کی حیثیت سے کیا میئر کو ان کا ساتھ نہیں دینا چاہئے تو انہوںنے کہا کہ ’’میں ہندوتوا کیلئے کام کرتی ہوں اور جو ہندوتوا کے خلاف ہوگا ،ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے چاہئے کوئی بھی ہو۔‘‘
شیوسینا (شندے) کے کارپوریٹر اور نائب میئر سنجے گھاڑی نے دیا مرزا کا ویڈیو ہٹائے جانے سے نااتفاقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بامبے ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ فلمی ہستیاں پیسے لئے بغیر عوام سے دیوالی کو اس طرح منانے کی اپیل کریں کہ اس سے صوتی اور فضائی آلودگی نہ پھیلے۔ اس پس منظر میں دیا مرزا کے ویڈیو میں مجھے کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دیوالی ہر مذہب کے لوگ مل کر مناتے رہے ہیں اور تہوار کے موقع پر ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہئے جس سے مذہبی اور سماجی خلفشار پیدا ہو۔
ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ(رکن پارلیمان) نے دیگر شخصیات کے ویڈیو کو چھوڑ کر بی جے پی کے دبائو میں صرف دیا مرزا کا ویڈیو ہٹانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذہب کوئی بھی ہو، آئین کے مطابق تمام شہریوں کو یکساں درجہ ملنا چاہئے۔ ‘