Updated: September 06, 2026, 8:09 PM IST
| New Delhi
بحرالکاہل میں تیزی سے مضبوط ہوتا ہوا ال نینو موسمیاتی رجحان ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق موجودہ ال نینو غیر معمولی طور پر طاقتور ہو سکتا ہے اور ریکارڈ پر موجود مضبوط ترین واقعات میں شامل ہونے کا امکان ہے۔
ایل نینو۔ تصویر:آئی این این
بحرالکاہل میں تیزی سے مضبوط ہوتا ہوا ال نینو موسمیاتی رجحان ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق موجودہ ال نینو غیر معمولی طور پر طاقتور ہو سکتا ہے اور ریکارڈ پر موجود مضبوط ترین واقعات میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ یہ صورتحال فروری ۲۰۲۷ء تک برقرار رہنے کی تقریباً ۱۰۰؍ فیصد امکان کے ساتھ عالمی سطح پر بارش، درجہ حرارت، خشک سالی، سیلاب اور ہیٹ ویو جیسے موسمی حالات کو متاثر کر سکتی ہے۔
ال نینو کے دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت کے معمول کے نظام میں تبدیلی آتی ہے۔ ہندوستان میں اس کا تعلق عموماً جنوب مغربی مانسون کی کمزوری سے جوڑا جاتا ہے۔ وزارتِ ارضیاتی علوم کے مطابق ۱۹۵۰ء کے بعد سامنے آنے والے ۱۶؍ ال نینو برسوں میں ۷؍ برس ایسے تھے جب ہندوستانی مانسون کی بارش معمول سے کم رہی۔ خاص طور پر مانسون کے آخری مرحلے، یعنی ستمبر کی بارش پر ال نینو کا اثر زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔
ہندوستان پہلے ہی ۲۰۲۶ء کے کمزور مانسون کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس سال ملک میں مانسون کی بارش تقریباً ۱۵؍ فیصد معمول سے کم رہنے کا امکان ہے، جس سے یہ ۲۰۰۹ء کے بعد سب سے کمزور مانسون بن سکتا ہے۔ جون میں بارش ۳۵؍ فیصد سے زیادہ کم رہی، جولائی میں کچھ بہتری کے بعد اگست میں دوبارہ کمی دیکھی گئی۔ اب ستمبر کی بارش پر خاص توجہ ہے کیونکہ کپاس، سویا بین، مکئی اور دالوں سمیت کئی خریف فصلیں اپنی پیداوار کے اہم مرحلے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے انڈرورلڈ کی دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا
یہاں انڈین اوشین ڈائیپول (آئی او ڈی ) اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ آئی او ڈی بحرِ ہند کے مغربی اور مشرقی حصوں کے درمیان سمندری سطح کے درجہ حرارت میں فرق سے پیدا ہونے والا موسمیاتی رجحان ہے۔ اس کا مثبت مرحلہ عموماً بحرِ ہند کے مغربی حصے میں نسبتاً گرم پانی اور مشرقی حصے میں نسبتاً ٹھنڈے پانی سے وابستہ ہوتا ہے۔
ماضی میں مثبت آئی او ڈی نے بعض اوقات ال نینو کے منفی اثرات کو کم کیا ہے۔ ۱۹۹۷ء میں انتہائی طاقتور ال نینو کے باوجود مثبت آئی اوڈی نے ہندوستانی مانسون کو بڑی حد تک سہارا دیا تھا۔ تاہم ۲۰۲۶ء کی صورتحال مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ۲۰۲۶ء میں بحرِ ہند میں مثبت آئی او ڈی کا رجحان پیدا ہورہا ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ وہ ال نینو کے کچھ اثرات کو محدود کرسکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اسے ہندوستان کے لیے مکمل حفاظتی ڈھال سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ال نینو اور آئی او ڈی کا باہمی تعلق ہر سال ایک جیسا نہیں ہوتا اور دونوں موسمی نظام مختلف علاقوں میں مختلف اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔
۱۹۹۷ءکی مثال اس لیے اہم ہے کہ اس وقت ایک مثبت آئی او ڈی نے طاقتور ال نینو کے باوجود ہندوستانی مانسون کو نسبتاً بہتر رکھنے میں مدد کی تھی۔ لیکن موجودہ صورتحال میں سوال یہ ہے کہ کیا بحرِ ہند ایک بار پھر وہی کردار ادا کرسکے گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا جواب ابھی واضح نہیں ہے۔
ہندوستانی حکومت بھی اس بات پر زور دے چکی ہے کہ مانسون صرف ال نینو سے طے نہیں ہوتا۔آئی او ڈی اور میڈین جولیان اور علاقائی سمندری و فضائی تعاملات بھی بارش کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے صرف ال نینو کی شدت دیکھ کر پورے مانسون کے بارے میں حتمی نتیجہ نکالنا مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:یوکی بھامبری اور این سری رام بالاجی یو ایس اوپن کے پہلے راؤنڈ سے باہر
ہندوستان کے لیے موجودہ وقت میں سب سے بڑا فوری سوال ستمبر کی بارش ہے۔ روئٹرز کے مطابق ستمبر میں بھی بارش معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے۔ اگر یہ کمی جاری رہی تو خریف فصلوں کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ مٹی میں نمی کی کمی ربیع فصلوں، خصوصاً گندم، سرسوں اور چنے کی بوائی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ کم زرعی پیداوار کا اثر صرف کسانوں تک محدود نہیں رہے گا۔ خوراک کی فراہمی کم ہونے کی صورت میں چینی، دالوں، خوردنی تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی درآمد بڑھ سکتی ہے، جبکہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیہی آمدنی، صارفین کے اخراجات اور مجموعی اقتصادی سرگرمی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ال نینو کا اثر ہمیشہ صرف بارش میں کمی کی صورت میں سامنے نہیں آتا۔ بعض علاقوں میں مجموعی بارش کم ہونے کے باوجود مختصر مدت میں انتہائی شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات بھی ہوسکتے ہیں۔ حالیہ موسمی حالات میں یہی تضاد دیکھنے کو ملا ہے، جہاں بعض علاقوں میں بارش کی مجموعی مقدار کم رہی لیکن شدید بارش کے واقعات میں اضافہ ہوا۔