سعودی عربیہ میں ۵؍ ستمبر کو ’’ عالمی یوم عطیہ منایا گیا، مملکتِ سعودی عرب نے اپنے عالمی انسانی اثرات کو اجاگر کیا، جس نے۱۷۵؍ ممالک میں۱۴۵؍ بلین ڈالر سے زائد مالیت کے۹۰۳۰؍ انسانی، ترقیاتی، اور فلاحی منصوبے انجام دیئے۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 8:09 PM IST | Riyadh
سعودی عربیہ میں ۵؍ ستمبر کو ’’ عالمی یوم عطیہ منایا گیا، مملکتِ سعودی عرب نے اپنے عالمی انسانی اثرات کو اجاگر کیا، جس نے۱۷۵؍ ممالک میں۱۴۵؍ بلین ڈالر سے زائد مالیت کے۹۰۳۰؍ انسانی، ترقیاتی، اور فلاحی منصوبے انجام دیئے۔
سعودی عربیہ میں ۵؍ ستمبر کو ’’ عالمی یوم عطیہ منایا گیا، مملکتِ سعودی عرب نے اپنے عالمی انسانی اثرات کو اجاگر کیا، جس نے۱۷۵؍ ممالک میں۱۴۵؍ بلین ڈالر سے زائد مالیت کے۹۰۳۰؍ انسانی، ترقیاتی، اور فلاحی منصوبے انجام دیئے۔اقوام متحدہ کے مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق، مملکت ۲۰۲۵ء میںانسانی اور امدادی تعاون فراہم کرنے میں عالمی سطح پر دوسرے اور عرب ممالک میں پہلے نمبر پر رہی۔ واضح رہے کہ مئی۲۰۱۵ء میں شاہی احکامات کے تحت قائم کردہ کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر (KSrelief) سعودی عرب کی بین الاقوامی امداد کی مخصوص شاخ ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے، اس مرکز نے۱۱۳؍ ممالک میں۴۴۵۷؍ امدادی منصوبے مکمل کیے ہیں، جن کے لیے۸؍ بلین ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: الفاظ شیخ نے اپنا سکوں سے بھرا گلک نیپال کے سیلاب متاثریں کیلئے وقف کردیا
مزید برآں یہ ریلیف سنٹر خصوصی اقدامات بھی مربوط کرتا ہے، جن میں سعودی پروگرام برائے مشترکہ جڑواں بچے شامل ہے، جس نے۱۵۸؍معاملات کا جائزہ لیا اور پانچ براعظموں کے۲۸؍ ممالک کے جڑواں بچوں کے۷۲؍ کامیاب علاحدگی کے آپریشن کیے، جس میں تمام متعلقہ علاج، سفری، اور بحالی کے اخراجات کا احاطہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مملکت کی پہل پر، اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر ۲۰۲۴ء میں۲۴؍ نومبر کو عالمی یومِ مشترکہ جڑواں بچوں کے طور پر منظور کیا۔ جبکہ سعودی پورٹل برائے بیرونی رضاکاری کے ذریعے،۸۴۳۸۸؍ رضاکاروں نے۵۹؍ ممالک میں۱۴۴۶؍ طبی اور تربیتی مہم میں حصہ لیا، جس سے۲؍ اعشاریہ ۸۵؍ ملین سے زائد افراد مستفید ہوئے اور۲۷۳۳۵۰؍ سرجیکل طریقہ کار انجام دیئے گئے۔ اس کے علاوہ، الیکٹرانک عطیہ پلیٹ فارم ”سام“ نے۹؍ اعشاریہ ۸۲؍ ملین سے زائد عطیہ دہندگان سےایک اعشاریہ ۷۰۱؍ بلین سعودی ریال سے زائد اکٹھے کیے تاکہ پائیدار امدادی کارروائیوں کو یقینی بنایا جا سکے، ساتھ ہی سعودی امداد پلیٹ فارم اور پناہ گزینوں کے اندراج معاونت بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں دبی۱۰۰؍ لاشوں کی بازیابی، سول ڈیفنس کا دوسرا مرحلہ مکمل
بعد ازاں مرکز کے کام کو وسیع بین الاقوامی شناخت ملی ہے، جس میں فلسطینی خاندانوں کی معاونت کے لیے عرب لیگ کا۲۰۲۴ء کا ایوارڈ برائے خاندان اور بچوں کے لیے دوست ادارے، اور یو ایس-عرب تعلقات کی قومی کونسل کی جانب سے عالمی انسانی اعزاز شامل ہے، جو سعودی وژن ۲۰۳۰ء کی پائیدار عالمی انسانی قیادت سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔