• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملاڈ اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ ۱۱؍ہزار۵۷۰؍ شہریوں کوالیکشن کمیشن نوٹس جاری کرے گا!

Updated: September 12, 2026, 11:56 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مالونی میں مساجد کے باہر،اولڈاورنیو کلکٹرکمپاؤنڈ میں جمعہ بعد سماجی خدمت گار کی جانب سے ۱۰؍ ہزار سے زائد ہینڈبل تقسیم کرائے گئے۔

Handbills are being distributed outside a mosque. Photo: Inquilab
ایک مسجد کے باہر ہیڈبل تقسیم کیا جارہا ہے۔ تصویر: انقلاب

ایس آئی آر میں انوملی اور بے ضابطگی کے نام پر ملاڈ اسمبلی حلقہ میں حیرت انگیز طور پر ایک لاکھ۱۱؍ ہزار۵۷۰؍ ووٹروں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کیا جائے گا۔ صورتحال یہ ہے کہ یہاں ایک ایک بوتھ پر کل رائے دہندگان کی نصف تعداد کونوٹس جاری کیا جائے گا۔ان ہی حالات کے پیش نظرسماجی خدمتگار جمیل مرچنٹ نے الیکشن کمیشن کے ذریعے حاصل کردہ تفصیلات کی رو سےشہریوں میں بیداری کیلئے اردو، ہندی اور انگریزی میں کئی ہزار ہینڈبل شائع کروائے ہیں۔جمعہ کی نماز کے بعد مسجد حضرت علی ، قریش جامع مسجد اور سنّی انجمن جامع مسجد کے علاوہ اولڈ کلکٹر اور نیوکلکٹر کمپاؤنڈ میں ۱۰؍ہزار سے زائد ہینڈبل تقسیم کروائے جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد پمفلٹ تقسیم کرنے کا نشانہ ہے جسے نوٹس کا جواب دینے کی آخری تاریخ تک جگہ جگہ تقسیم کرکے ہر شہری کو باخبر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: بینک ملازمین کی ملک گیر ہڑتال کے سبب بینکوں میں کام کاج بری طرح متاثر

جمیل مرچنٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’’یہ کام کرنے اور لوگوں کو بیدار کرنے کا وقت ہے ورنہ جس طرح کے حالات ہیں، اگرلوگوں نے توجہ نہ دی اوران کی رہنمائی نہ کی گئی توشہریوں کی بہت بڑی تعداد حق رائے دہی سے محروم کردی جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقۂ انتخاب کے حساب سے ’ایکس‘ پر یہ تفصیلات ڈالی گئی ہیں، اسی سے استفادہ کرتے ہوئے انہوںنےملاڈ حلقۂ اسمبلی ۱۶۲؍کی تفصیل حاصل کی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میںشہریوں کونوٹس جاری کرنے کے فیصلے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سےایس آئی آر کے لئے کیا طریقہ اپنایا گیاہے اورکس طرح شہریوں کو غیر ضروری طور پر پریشان کیا جارہا ہے اوران کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ ایک طرح سےمشکوک ووٹر ہیں جبکہ وہ برسہا برس سے انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہےکہ ہر شہری ووٹ کے اپنے آئینی اورجمہوری حق کیلئے بیدار رہے اور بیدار رہ کر یہ بھی باور کرائے کہ وہ اپنے بنیادی آئینی حق سے کسی کوکھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دے گا اورنہ ہی ایسی کسی طرح کی کوشش کامیاب ہونے دی جائے گی۔‘‘ 

واضح ہوکہ مساجد کے باہر یا علاقے کی سطح پراس طرز پرہینڈبل کی تقسیم ممبئی میں اب تک کی یہ پہلی کوشش ہے۔ اگرپورے ممبئی کی بات کی جائے تو ۲۰؍لاکھ ۹۰؍ ہزار ووٹرس اس زمرے میں شامل کئے گئے ہیں جنہیں نوٹس بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے ۱۲؍ دن بعد بھی انوملی پر ووٹروں کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا

کن ووٹرس کواورکیوں نوٹس جاری کیاجائے گا؟

ہینڈبل میںیہ بتایا گیا ہے کہ ’’جن ووٹرس کی تفصیلات میں تضاد ہے مثلاً نام میں غلطی، والدین کے نام میں غلطی اور عمر یا تاریخ پیدائش میں فرق۔ اسی طرح وہ ووٹر جنہوں نے ایس آئی آر فارم جمع کرنے سے پہلے ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ سے اپنا نام منسلک نہیں کیا ہے۔ براہ کرم اپنے بی ایل اوسے رابطہ قائم کریں کہ آیا آپ کا نام تضاد والی لسٹ (ڈسکریپنسی لسٹ ) میں شامل ہے یا نہیں۔ اگر ہے توضروری دستاویزات پہلے سے تیار رکھیں تاکہ الیکشن کمیشن  کے نوٹس  دینے پر بروقت مناسب جوا ب اور ضروری دستاویزات پیش کئے جاسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK