ٹیم انڈیا کی کھلاڑی دیپتی شرما نے خطابی مقابلے کے تعلق سے کہا کہ پاکستان ہو یا سری لنکا ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ٹیم متحد ہوکر مقابلہ کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 12:20 PM IST | Agency | Dubai
ٹیم انڈیا کی کھلاڑی دیپتی شرما نے خطابی مقابلے کے تعلق سے کہا کہ پاکستان ہو یا سری لنکا ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ٹیم متحد ہوکر مقابلہ کرتی ہے۔
ہندوستانی آل راؤنڈر دیپتی شرما نے کہا ہے کہ ویمنز ایشیا کپ ٹی۔۲۰؍ کے فائنل میں پاکستان کا سامنا ہو یا سری لنکا کا، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور ہندوستانی ٹیم ہر حریف کے خلاف اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے پر توجہ دے گی۔
بنگلہ دیش کے خلاف سیمی فائنل میں ۴۰؍ رن سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایک سوال کے جواب میں دیپتی نے کہا’’یہ دراصل دوسرے سیمی فائنل کے نتیجے پر منحصر ہے لیکن ہندوستانی ٹیم اس کے لئے تیار ہے۔ ہماری ٹیم کسی بھی حریف کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرتی۔ فائنل میں سری لنکا آئے یا پاکستان، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بھی ٹیم سامنے ہوگی، ہم ایک ٹیم کے طور پر یہی سوچیں گے کہ ہر میچ میں اپنی کارکردگی کو کس طرح بہتر بنایا جائے اور پوری ٹیم کی حیثیت سے مزید اچھا مظاہرہ کیسے کیا جائے۔ بس یہی ہماری سوچ ہے۔ ہم ایک ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھیں گے، جس سے فائنل کے لئے اپنی حکمت عملی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رونالڈو کا شاندار کارنامہ، کریئر کا ۹۷۹؍واں گول، النصر نے ابہا کو شکست دے دی
ہندوستان نے اب تک اس ٹورنامنٹ میں اپنے تمام میچ جیتے ہیں اور اس نے جن ٹیموں کو شکست دی ہے، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کے خلاف میچ میں ہندوستان نے ۵۵؍ رنوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور ۶۸؍ گیندیں باقی رہتے ہوئے ہدف حاصل کرلیا تھا۔ دیپتی نے اس میچ میں ۲؍ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
بنگلہ دیش کے خلاف سیمی فائنل میں ۲۶؍ رن پر۳؍وکٹ کی شاندار گیند بازی کے بعد دیپتی ایشیا کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی گیند باز بن گئی ہیں۔ ان کے نام اب ۱۱؍ وکٹیں ہیں۔ بنگلہ دیش کیخلاف انہوں نے ۶؍ گیندوں پر ۱۳؍ رن بنائے، جس میں ایک چوکا اور ایک چھکا شامل تھا۔انہوں نے کہا’’جب میں نے کرکٹ شروع کی تھی تو میں صرف گیند بازی پر توجہ دیتی تھی۔ اس لئے اب جب مجھے بلے اور گیند دونوں سے ٹیم کیلئے تعاون کرنے کا موقع ملتا ہے تو مجھے یقین رہتا ہے کہ میں اپنا تعاون پیش کر سکتی ہوں۔ آج مجھے جتنی گیندیں کھیلنے کا موقع ملا، اس سے میں خوش ہوں۔ میں اسی طرح کام کرتی آئی ہوں۔ چاہے پہلے بیٹنگ کا موقع ملے یا پہلے وکٹ حاصل ہو، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں ہمیشہ کی طرح ٹیم کیلئے اپنا تعاون دینے پر توجہ دیتی ہوں۔‘‘
ہندوستان کیلئے ایک تشویش فیلڈنگ، خاص طور پر کیچنگ، بھی ہے، جو خطابی مقابلے میں اس کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ ہندوستان کی فیلڈنگ میں مسلسل کمزوریاں نظر آرہی ہیں اور بنگلہ دیش کے خلاف بھی ہندوستانی کھلاڑیوں نے ۴؍کیچ چھوڑے۔اس سلسلے میں دیپتی نے کہا ’’ایک ٹیم کے طور پر ہم فیلڈنگ میں اچھا کام کر رہے ہیں۔ تربیتی سیشن میں ہم کیچ پکڑنے اور فیلڈنگ کی باقاعدہ مشق کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ کبھی ایک دن چیزیں آپ کے حق میں ہوتی ہیں اور کبھی دوسرے دن ایسا نہیں ہوتا۔ لیکن ایک ٹیم کے طور پر ہم فائنل کیلئے مکمل طور پر تیار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: میں ہمیشہ سیکھتا رہتا ہوں اور سیکھتے رہنا چاہتا ہوں:محمد سمیع
ایشیا کپ میں ہندوستان کا غلبہ
ٹیم انڈیا نے لگاتار دسویں بار ویمنز ایشیا کپ فائنل میں رسائی حاصل کی ہے۔ ۲۰۰۴ء میں کھیلے گئے پہلے ایڈیشن سے لے کر اب تک ٹیم انڈیا ہر بار فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ ہندوستانی خواتین ٹیم چاہے ون ڈے ہو یا ٹی ۔۲۰؍ ایشیا کپ ٹورنامنٹ کے ہر فارمیٹ میں ہمیشہ فائنل تک پہنچی ہے۔ ٹیم نے سب سے زیادہ ۷؍ بار یہ خطاب اپنے نام کیا ہے اور اب وہ اپنے آٹھویں خطاب سے صرف ایک قدم دور ہے۔ ہندوستان نے ۲۰۰۴ ء۲۰۰۵ ء ۲۰۰۶ء اور ۲۰۰۸ء میں ون ڈے فارمیٹ جبکہ ۲۰۱۲ء، ۲۰۱۶ء اور ۲۰۲۲ء میں ٹی ۔۲۰؍ فارمیٹ میں ایشیا کپ جیتا تھا۔ ہندوستان کی خاتون ٹیم کو ۲۰۱۸ء اور ۲۰۲۴ء کے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔