Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین: ۱۹۶۷ء کی جنگ پر نئی اسرائیلی دستاویزات منظرعام پر، جبری نقل مکانی پر بحث

Updated: June 06, 2026, 7:19 PM IST | Jerusalem

اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اور اس کے بعد فلسطینیوں اور شامیوں کی جبری نقل مکانی، قتل، دیہات کی مسماری اور وسیع پیمانے پر لوٹ مار سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ سابق اسرائیلی فوجیوں کی غیر شائع شدہ گواہیوں، فوجی دستاویزات اور سرکاری ریکارڈز پر مبنی ہے۔ تحقیقات کے مطابق تقریباً ۳؍ لاکھ فلسطینی اور ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار شامی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوئے یا انہیں بے دخل کیا گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے تقریباً چھ دہائیوں بعد اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ نے اس تنازعے کے دوران اور بعد میں فلسطینیوں اور شامیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں سابق اسرائیلی فوجیوں کی گواہیوں، فوجی ریکارڈز، سرکاری خط و کتابت اور محفوظ شدہ دستاویزات کی بنیاد پر قتل، جبری بے دخلی، دیہات کی تباہی اور لوٹ مار کے متعدد الزامات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ تحقیق اسرائیلی محقق ایڈم راز نے اکیووٹ انسٹی ٹیوٹ فار اسرائیل فلسطین کنفلیکٹ ریسرچ کے تعاون سے تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون ۱۹۶۷ء کی جنگ کے دوران اور اس کے بعد تقریباً ۳؍ لاکھ فلسطینی مغربی کنارے، غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے بے گھر یا بے دخل ہوئے، جبکہ تقریباً ۱۲۰۰۰۰؍ شامی گولان کی پہاڑیوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔
تحقیقات میں شامل متعدد گواہیاں اسرائیلی فوجیوں اور افسروں کی ہیں جنہیں جنگ کے فوراً بعد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان میں سے کئی بیانات ۱۹۶۷ء میں شائع ہونے والی مشہور اسرائیلی کتاب ’’دی سیونتھ ڈے: سولجرز ٹاک اباؤٹ دی سکس ڈے وار‘‘ میں شامل نہیں کیے گئے تھے اور دہائیوں تک منظرعام پر نہیں آئے۔ رپورٹ میں بعض فوجیوں کے حوالے سے ایسے بیانات شامل ہیں جن میں قیدیوں اور عام شہریوں کے قتل کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک فوجی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’پہلے میں ان عربوں کو مارنے کے لیے تیار نہیں تھا جو مزاحمت نہیں کر رہے تھے، لیکن پھر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں انہیں قتل کرنا ہوگا۔‘‘ ایک اور فوجی نے غزہ میں جنگ کے بعد کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ آپ کسی کو بھی مار سکتے تھے، کوئی قانون نہیں تھا، کوئی آپ سے سوال نہیں کرتا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: حبرون کے قریب اسرائیلی فائرنگ میں۷؍ ماہ کا فلسطینی شیرخوار بچہ ہلاک، والدین زخمی

ایک اور گواہی میں غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے نوجوان لڑکوں کو پکڑا، انہیں قطار میں کھڑا کیا اور انہیں ختم کر دیا۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ قتل محسوس ہوتا ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق متعدد دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسرائیلی فوج کو دریائے اردن پار کر کے واپس آنے والے فلسطینیوں کو روکنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ بعض گواہیوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واپس آنے کی کوشش کرنے والوں پر گولی چلانے کی ہدایات موجود تھیں۔ سابق اسرائیلی رکن پارلیمنٹ اوری ایونری کی جانب سے محفوظ کی گئی ایک گواہی میں ایک فوجی نے کہا کہ انہیں ’’پیشگی انتباہ کے بغیر گولی مارنے اور قتل کرنے‘‘ کے احکامات دیے گئے تھے۔ ایک اور فوجی نے یاد کیا کہ جب اس نے پوچھا کہ ’’اگر میں بچوں کے رونے کی آواز سنوں تو کیا مجھے گولی چلانی چاہیے؟‘‘ تو اسے جواب ملا، ’’لڑکی مت بنو۔‘‘
تحقیقات میں مغربی یروشلم کے قریب واقع لاترون کے دیہات امواس، یالو اور بیت نوبا کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں کے تقریباً آٹھ ہزار فلسطینی باشندوں کو بے دخل کیا گیا اور بعد میں دیہات کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ بعد ازاں انہی علاقوں پر کنیڈا پارک تعمیر کیا گیا۔ رپورٹ قلقیلیہ، جیریکو اور مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں بھی آبادی کے انخلا، فوجی دباؤ، لاؤڈ اسپیکر اعلانات اور گھروں کی مسماری کے ذریعے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیے جانے کے الزامات بیان کرتی ہے۔ غزہ کے حوالے سے بھی کئی نئی شہادتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک فوجی کے مطابق، ’’ہم غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں گھومتے تھے اور صفائی کرتے تھے۔‘‘ جبکہ ایک اور نے کہا کہ ’’ہم ہر آدمی کو جنگجو سمجھتے تھے، حالانکہ بعد میں اندازہ ہوا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل تھے۔‘‘
تحقیقات میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضے کے بعد شامی آبادی کی نقل مکانی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد دیہات کو بعد میں بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کر دیا گیا تاکہ ان کے مکین واپس نہ آ سکیں۔ سابق اسرائیلی کمانڈر ایلاد پیلڈ کے حوالے سے کہا گیا کہ دیہات کو تباہ کرنے کا مقصد ’’واپسی کا ہر راستہ بند کرنا‘‘ تھا۔ تحقیقات میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے الزامات بھی شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق فلسطینی اور شامی گھروں، اسکولوں، کاروباری مراکز اور سرکاری اداروں سے املاک نکالی گئیں اور اس عمل میں بعض فوجیوں، شہریوں اور مقامی حکام کے ملوث ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اسرائیل کی وزارت خارجہ کے اُس وقت کے قانونی مشیر تھیوڈور میرون کا ۱۹۶۷ء کا ایک غیر شائع شدہ خط بھی شامل ہے۔ ہاریٹز کے مطابق میرون نے خبردار کیا تھا کہ شہری آبادی کی جبری بے دخلی ’’جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی‘‘ تصور کی جا سکتی ہے اور اس کے اسرائیل کے لیے بین الاقوامی قانونی اور سفارتی نتائج نکل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: افرادی قوت کی قلت: اسرائیلی معیشت میں ہندوستانی، تھائی، سری لنکن ملازمین بڑھ گئے

یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ جنگ اور فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر عالمی توجہ دوبارہ مرکوز ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے ۱۹۶۷ء کی جنگ کے دوران ہونے والی نقل مکانی اور قبضے کے اثرات پر مزید شفافیت اور تاریخی احتساب کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام ماضی میں ایسی کئی رپورٹس کے بعض حصوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے لیے ۱۹۶۷ء کی جنگ کو ’’نکسا‘‘ کہا جاتا ہے، جو ۱۹۴۸ء کے ’’نکبہ‘‘ کے بعد بڑے پیمانے پر دوسری فلسطینی نقل مکانی سمجھی جاتی ہے۔ آج بھی یہ واقعہ فلسطینی قومی یادداشت اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم حوالہ بنا ہوا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK