نرملا سیتارمن نے اعلان کیا کہ نئی دہلی اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں ادائیگی کے نظام کو آسان بنانے کیلئے کام کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 1:19 PM IST | Agency | Bangkok
نرملا سیتارمن نے اعلان کیا کہ نئی دہلی اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں ادائیگی کے نظام کو آسان بنانے کیلئے کام کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو ایک بار پھر کہا ہے کہ ہندوستان روپے میں تجارتی لین دین کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔انہوں نے اس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ زرمبادلہ کی قلت کا سامنا کرنے والے شراکت دار ممالک ضروری اشیا درآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
مقامی کرنسی میں تجارت کی ضرورت کیوں؟
انہوں نے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر اٹلانٹک کونسل کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ جن ممالک کو عالمی سطح پر قابل قبول مضبوط کرنسیوں تک رسائی حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے، انہیں اپنی ضرورت کے باوجود اشیا کی درآمد اور تجارت جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی کرنسیوں میں لین دین اس مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ہندوستان روپے میں ادائیگی لینے کو تیار
سیتارمن نے کہاکہ ’’ہندوستان جو کام کرنا چاہتا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو ممالک ہم سے اشیا درآمد کرتے ہیں، ان کی جانب سے کی جانے والی ادائیگی روپے میں وصول کی جائے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان روپے اور متعلقہ ممالک کی مقامی کرنسیوں میں ادائیگی کے نظام کو آسان بنانے کیلئے کام کر رہا ہے، تاکہ زرمبادلہ کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کے ساتھ تجارت جاری رہ سکے۔انہوں نے کہاکہ ’’روپے اور مقامی کرنسیوں میں لین دین کا نظام ہم ان ممالک کے فائدے کیلئے متعارف کرانا چاہتے ہیں جن کے پاس مضبوط غیر ملکی کرنسیوں کی کمی ہے لیکن انہیں بعض اشیا درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح روپے میں تجارت کے ذریعے مقامی کرنسیوں میں ادائیگی ممکن بنا کر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھی جاسکتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پٖڑھئے: نرملا سیتارمن کی برٹش وزیر جان ہیلی سے بنکاک میں ملاقات، اقتصادی تعلقات پر گفتگو
۳؍ سے ۴؍ سال لگ سکتے ہیں
انہوں نے کہا کہ کثیر ملکی ترقیاتی اداروں کو ایسے مسائل کا جواب دینے میں تین سے چار سال لگ جاتے تھے، تاہم اب اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئےجا رہے ہیں۔
آسیان سے معاہدہ غیر متوازن
نرملا سیتارمن نےکہا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی معاہدہ نئی دہلی کے حق میں متوازن نہیں ہے۔ انہوں نےکہاکہ ’’ہم اس بات کے مخالف نہیں ہیں کہ آسیان کے ممالک اس معاہدے سے فائدہ اٹھائیں لیکن یہ معاہدہ بہت زیادہ ہندوستان کے خلاف جھکا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے سے آسیان کو فائدہ ہوتا ہے تو ہندوستان کو اس پر اعتراض نہیں، لیکن درآمد کنندگان، ہندوستانی بازاروں اور ملکی صنعت کاروں کو درپیش مسائل کو بھی دور کیا جانا چاہیے۔
ہند-امریکہ معاہدہ جلد
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گاجو عالمی تجارت اور دونوں ممالک کے باہمی اقتصادی تعلقات کے مفاد میں ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ حال ہی میں ہندوستان کے وزیر تجارت نے بھی کہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر جلد دستخط کی امید رکھتے ہیں اور اس کے خواہش مند ہیں۔ مذاکرات جاری ہیں۔ مجھے امید ہے کہ عالمی تجارت اور دونوں شراکت دار ممالک، ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارت کے مفاد میں یہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔‘‘