Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناٹو لیڈروں کو اردگان کا تحفہ: کسی نے انقرہ میں چھوڑا، کسی نے ایئرپورٹ پر

Updated: July 10, 2026, 7:30 PM IST | Ankara

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر پیش کیا گیا خصوصی ریوالور کئی عالمی لیڈروں کے لیے غیر متوقع پریشانی کا سبب بن گیا۔ بعض وفود کو واپسی کے سفر کے دوران کسٹمز اور اسلحہ قوانین کا سامنا کرنا پڑا، کچھ لیڈر اپنے وطن پہنچنے کے بعد ہی جان سکے کہ تحفے کے ڈبے میں زندہ کارتوسوں سمیت فعال ریوالور موجود ہے، جبکہ متعدد ممالک نے اسلحہ ترکی ہی میں چھوڑ دینے یا اسے غیر فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔

Some leaders left the gifts at the airport. Photo: INN
بعض لیڈران نے تحفے کو ایئر پورٹ پر چھوڑ دیا۔ تصویر: آئی این این

ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر دیا گیا غیر معمولی سفارتی تحفہ اجلاس ختم ہونے کے بعد بھی عالمی لیڈروں کے لیے موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے پیش کی گئی نام کندہ ریوالور اور زندہ کارتوسوں نے کئی وفود کو ایسی قانونی اور انتظامی مشکلات سے دوچار کر دیا جن کا اندازہ انہیں اجلاس کے دوران نہیں تھا۔ سب سے زیادہ توجہ بلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کے واقعے نے حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق وہ برسلز پہنچنے کے بعد اس وقت حیران رہ گئے جب معلوم ہوا کہ ان کے سامان میں زندہ کارتوسوں کے ساتھ ریوالور موجود ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اسلحہ فوری طور پر ایئرپورٹ پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔ اس واقعے نے بلجیم میں سفارتی تحائف اور اسلحہ قوانین پر نئی بحث چھیڑ دی۔ 
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ریوالور اپنے ساتھ لے جانے کے بجائے اسے ترکی ہی میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی قوانین کے تحت فعال آتشیں اسلحہ کی درآمد پیچیدہ قانونی مراحل سے مشروط ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ ریوالور کو پہلے غیر فعال کیا جائے، اس کے بعد ہی برطانیہ منتقل کیا جائے گا۔

نیدرلینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن نے بھی اسی نوعیت کا راستہ اختیار کیا اور تحفہ انقرہ میں ہی چھوڑ دیا تاکہ ضروری قانونی کارروائی اور غیر فعال بنانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسے وصول کیا جا سکے، جبکہ ناٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ریوالور قبول ہی نہیں کیا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن نے اعلان کیا ہے کہ ریوالور کو برسلز پہنچنے اور غیر فعال کیے جانے کے بعد فوجی میوزیم کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اسی طرح کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی بھی اس تحفے کو سرکاری ذخیرے یا کسی عجائب گھر میں رکھنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اسے ذاتی استعمال کے بجائے تاریخی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق جرمنی، اٹلی، اسپین، پولینڈ، سویڈن اور بعض دیگر ممالک کے وفود نے بھی ریوالور براہِ راست اپنے ہمراہ لے جانے کے بجائے سفارت خانوں، سرکاری تحویل یا کسٹمز کے حوالے کر دیے تاکہ مقامی قوانین کے مطابق تمام مراحل مکمل کیے جا سکیں۔ کچھ ممالک نے تحفے کو مستقل طور پر سرکاری تحائف کے ذخیرے یا میوزیم میں رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی تحائف عموماً وصول کنندگان کے لیے خوشگوار یادگار ہوتے ہیں، لیکن اس مرتبہ معاملہ مختلف ثابت ہوا۔ آتشیں اسلحہ چونکہ تقریباً ہر ملک میں الگ قوانین کے تحت آتا ہے، اس لیے ایک ہی تحفہ مختلف ممالک میں مختلف قانونی تقاضوں کا باعث بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لیڈروں نے اسے ذاتی سامان کے بجائے سرکاری تحویل میں دینے کو ترجیح دی۔ 
یاد رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک کے لیڈروں کو ترکی میں تیار کردہ ۳۵۷؍ میگنم ریوالور تحفے میں دی تھی۔ ہر ریوالور پر وصول کنندہ لیڈر کا نام کندہ تھا اور اس کے ساتھ زندہ کارتوس، صفائی کا سامان اور یادگاری ڈبہ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ یہی خصوصیات بعد میں کئی ممالک کے لیے قانونی پیچیدگیوں کی وجہ بنیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK