Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانئے ترک صدر اردگان نے ناٹو لیڈروں کو تحفے میں ریوالور ہی کیوں دیا؟

Updated: July 10, 2026, 8:01 PM IST | Ankara

ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے عالمی لیڈروں کو ریوالور تحفے میں دینے کے فیصلے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سفارتی روایات میں اس نوعیت کا تحفہ غیر معمولی تصور کیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے ترکی نے اپنی دفاعی صنعت، بڑھتی ہوئی اسلحہ برآمدات اور ناٹو میں اپنے اسٹریٹجک کردار کا بھرپور اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ناٹو کے سربراہی اجلاس کے بعد جب رکن ممالک کے لیڈروں کو ترکی میں تیار کردہ ریوالور تحفے میں دی گئی تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا سوال یہی تھا کہ آخر صدر رجب طیب اردگان نے روایتی قالین، نوادرات یا ثقافتی تحائف کے بجائے آتشیں اسلحہ ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ اگرچہ ترک حکومت نے اس بارے میں باضابطہ تفصیلی وضاحت نہیں کی، تاہم اجلاس کے ماحول، اردگان کی تقاریر اور ترکی کی دفاعی حکمت عملی کو سامنے رکھا جائے تو اس اقدام کے کئی سیاسی اور معاشی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔

یہ بھی پرھئے: ناٹو لیڈروں کو اردگان کا انوکھا تحفہ، نام کندہ والی ریوالور اور زندہ کارتوس دیئے

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحفے کا پہلا اور سب سے نمایاں مقصد ترکی کی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں کو دنیا کے طاقتور ترین لیڈروں کے سامنے پیش کرنا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں ترکی نے ڈرونز، بکتر بند گاڑیوں، میزائل نظام اور ہلکے ہتھیاروں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب دفاعی برآمدات اس کی خارجہ پالیسی کا بھی اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ریوالور اسی قومی صنعت کی ایک علامتی نمائندگی تھی۔ اس پہلو کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ناٹو اجلاس کے دوران اردگان نے اتحادی ممالک پر زور دیا تھا کہ دفاعی صنعت سے متعلق پابندیوں اور رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی دفاعی منصوبوں میں ترکی کو نظر انداز کرنا اتحاد کے مفاد میں نہیں۔ مبصرین کے مطابق ایسے ماحول میں ترک ساختہ ریوالور پیش کرنا دراصل ایک خاموش سیاسی پیغام تھا کہ ترکی صرف سلامتی کا صارف نہیں بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا اہم ملک بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: محمود عباس نے۲۰؍ سال بعد پہلے فلسطینی قانون ساز انتخابات کی تاریخ مقرر کی

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’’گفٹ ڈپلومیسی‘‘ کی ایک منفرد مثال بھی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ریاستی تحائف اکثر میزبان ملک کی ثقافت، تاریخ یا صنعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اردگان نے اسی روایت کو ایک مختلف انداز میں استعمال کرتے ہوئے ترکی کی دفاعی صنعت کو سفارتی تحفے کی شکل دے دی۔ اس طرح ہر ریوالور صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ترکی کی صنعتی صلاحیت کا نمائندہ بھی بن گئی۔ اعداد و شمار بھی اسی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جنیوا میں قائم اسمال آرمز سروے کے مطابق ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۴ء کے دوران ترکی دنیا کا تیسرا بڑا چھوٹے ہتھیار برآمد کرنے والا ملک رہا، جبکہ ترک اسلحہ ساز اداروں نے نسبتاً کم قیمت مگر معیاری مصنوعات کے ذریعے یورپی منڈی میں بھی اپنی جگہ مضبوط بنائی ہے۔ مبصرین کے مطابق عالمی لیڈروں کو ترک ساختہ ریوالور دینا اس صنعت کی غیر رسمی تشہیر بھی تھا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحفے کا انتخاب ناٹو اجلاس کے مرکزی موضوعات سے بھی مطابقت رکھتا تھا۔ اس اجلاس میں دفاعی اخراجات بڑھانے، اسلحہ سازی میں تعاون، روس۔یوکرین جنگ اور یورپی سلامتی جیسے معاملات سرفہرست رہے۔ ایسے میں دفاعی صنعت سے وابستہ تحفہ علامتی طور پر انہی مباحث کا تسلسل محسوس ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی یورپ : جون کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین ماہ،درجہ حرارت معمول سے۴؍ڈگری زیادہ

اگرچہ اس غیر معمولی تحفے پر مختلف ملکوں میں مختلف ردعمل سامنے آیا اور بعض لیڈروں کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اردگان اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ ناٹو اجلاس کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے ترک ساختہ ریوالور، اس کی تیاری، اسلحہ ساز کمپنی اور ترکی کی دفاعی صنعت پر بھی تفصیل سے رپورٹنگ کی۔ یوں ایک سفارتی تحفہ عالمی سطح پر ترکی کی دفاعی صلاحیتوں کے تعارف کا ذریعہ بن گیا۔ 
یاد رہے کہ ترکی گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی خود کفالت کو قومی ترجیح بنا چکا ہے۔ حکومت مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، جنگی گاڑیوں اور ہلکے ہتھیاروں کی برآمدات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ ناٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دیا گیا یہ تحفہ بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے انقرہ اپنی عسکری صنعت کو عالمی سفارت کاری کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK