Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارے میں بڑھتا تشدد: یورپی یونین کا فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے نیا پروگرام

Updated: April 30, 2026, 10:01 PM IST | Ramla

یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں سے متاثر فلسطینیوں کی مدد اور تحفظ کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یورپی حکام نے بڑھتے ہوئے تشدد کو ’’ویک اپ کال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف متاثرین کی فوری امداد فراہم کرنا ہے بلکہ شہریوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کرنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری تشدد کے تناظر میں یورپی یونین نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور متاثرین کی مدد کے لیے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر اس پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہ اعلان الیگزینڈر اسٹوٹزمین نے ایک سفارتی وفد کے دورے کے دوران کیا، جس میں کرسٹوف بیگوٹ اور متعدد غیر ملکی سفیر بھی شامل تھے۔ وفد نے راملہ کے مشرق میں واقع المغییر گاؤں کا دورہ کیا، جہاں حالیہ تشدد کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تیل کی عالمی قیمت ۱۴۰؍ ڈالر تک پہنچ جائے گی: باقر قالیباف

الیگزینڈر نے کہا کہ ’’ہم مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کو ایک ویک اپ کال کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی سے ہم ان واقعات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، لیکن ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر سکتے ہیں کہ ان کا اعادہ نہ ہو۔‘‘ اس نئے پروگرام کے تحت فیلڈ میں رضاکار گروپوں کو متحرک کیا جائے گا، جو متاثرین کی مدد اور مقامی سطح پر حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں گے۔ اگرچہ ان گروپوں کے مکمل دائرہ کار کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں شہریوں کے تحفظ کے لیے مربوط نظام تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم متاثرین کی امداد کے پروگرام سمیت دیگر ٹھوس سیاسی اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے تشدد کو روکا جا سکے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور فوج کی کارروائیوں کے خلاف عالمی سطح پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ۲۱؍ اپریل کو المغییر گاؤں میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک بچے سمیت دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے، جس نے صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ :مذاکرات درکنار، سخت بیان بازی شروع

سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران کم از کم ۱۱۵۴؍ فلسطینی ہلاک، ہزاروں زخمی اور تقریباً ۲۲؍ ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یورپی یونین کا یہ اقدام علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی اہمیت بھی رکھتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار زمینی سطح پر عملدرآمد اور بین الاقوامی دباؤ پر ہوگا۔

تاہم، اس پروگرام کے عملی نفاذ، فنڈنگ اور رضاکار گروپوں کے کردار سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، جس کے باعث اس کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ لیکن یورپی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید اقدامات اور وضاحتیں سامنے آئیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ اقدام مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف متاثرہ فلسطینیوں کے لیے فوری ریلیف فراہم کر سکتا ہے بلکہ خطے میں شہری تحفظ کے لیے ایک نیا ماڈل بھی قائم کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK