Updated: July 15, 2026, 4:01 PM IST
| Hague
یورپی یونین (EU) نے امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف اقدامات کے بعد اپنی حمایت کا اعادہ کیا،ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالت کے حوالے سے یونین کا موقف تبدیل نہیں، وہ بین الاقوامی فوجداری انصاف اور استثنیٰ کے خلاف جنگ پر اپنے موقف پر قائم ہے۔
یورپی کمیشن کے ترجمان انور العنونی۔ تصویر: ایکس
یورپی یونین (EU) نے امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف اقدامات کے بعد اپنی حمایت کا اعادہ کیا،ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالت کے حوالے سے یونین کا موقف تبدیل نہیں، وہ بین الاقوامی فوجداری انصاف اور استثنیٰ کے خلاف جنگ پر اپنے موقف پر قائم ہے۔ یورپی کمیشن کے ترجمان انور العنونی نے کہا کہ عدالت کے حوالے سے یورپی یونین کا موقف بدستور قائم ہے۔انہوں نے روزانہ پریس بریفنگ میں کہا،’’ہمارا موقف غیر تبدیل شدہ اور بالکل واضح ہے۔ یورپی یونین کی حیثیت سے ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے لیے اپنی حمایت پر ثابت قدم ہیں۔ہم عدالت کی آزادی اور غیرجانبداری کا احترام کرتے ہیں۔ ہم بین الاقوامی فوجداری انصاف اور استثنیٰ کے خلاف جنگ کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں جون کے آخر میں پڑنے والی شدید گرمی سے ۱۰؍ ہزار سے زائد اموات!
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ عدالت، منتخب عہدیداران، عملے یا اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے خلاف حملے یا دھمکیاں بالکل قابلِ قبول نہیں ہیں۔‘‘ بعد ازاں ترجمان نے اس تجویز کو بھی مسترد کیا کہ ICC قومی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے، انہوں نے کہا کہ عدالت کا مرکز سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد ہیں۔اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ICC خودمختار ریاستوں کو نشانہ نہیں بناتی، نہ ہی یہ ان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے ، ICC بین الاقوامی برادری کے لیے تشویشناک سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد پر اختیار رکھتی ہے۔
یورپی کمیشن کی ایک اور ترجمان میک گیری نے کہا کہ یورپی کمیشن عدالت کی آزادی کے تحفظ اور اس کے کام کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا، ’’کمیشن بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بین الاقوامی فوجداری نظام کے سنگ بنیاد کے طور پر مدد کرنے اور اس کی آزادی اور مناسب کام کو محفوظ بنانے کے لیے پختہ عزم رکھتا ہے۔کمیشن ICC کے کام، بشمول جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات، کو جاری رکھنے کی حمایت کرتا ہے، اور ہم پہلے ہی تمام مناسب اقدامات، بشمول سفارتی، قانونی اور مالی راستے، جن سے ICC کے آپریشن کو جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ کمیشن عدالت، یورپی یونین کے رکن ممالک اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے سابق صدر احمدی نژاد نظر بند: امریکی اخبار
واضح رہے کہ روم اسٹیٹیوٹ کے تحت قائم ہوئی، نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت کے جرم کے مرتکب افراد کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کرتی ہے۔نومبر۲۰۲۴ء میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اس عدالت نے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیردفاع یوآو گیلنٹ کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔جبکہ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے پیر کو ICC کو ختم کرنے کی مہم شروع کی، اور دعویٰ کیا کہ یہ عالمی عدالت امریکی فوجی اور قانون نافذ کرنے والے آپریشن میں امریکی خودمختاری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔