یورپ میں امسال گرمی جہنم کا منظر پیش کررہی ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹا ، اور پورا یورپ شدید گرمی کی لہر دوچار ہے۔ اس کے علاوہ کئی ممالک میں دوپہر کے اوقات میں باہر کے کام پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 10:02 PM IST | London
یورپ میں امسال گرمی جہنم کا منظر پیش کررہی ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹا ، اور پورا یورپ شدید گرمی کی لہر دوچار ہے۔ اس کے علاوہ کئی ممالک میں دوپہر کے اوقات میں باہر کے کام پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
پیر۲۵؍ مئی کو شدید گرمی کی لہر نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس میں برطانیہ، آئرلینڈ اور فرانس نے مئی کے مہینے میں اعلیٰ ترین درجہ حرارت درج کیا۔ موسمی ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ جھلسا دینے والی صورتحال پورے ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔ یہ غیر معمولی شدید گرمی ’’ہیٹ ڈوم‘‘ (حرارت کا گنبد) کی وجہ سے ہے، جو شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا کا ایک بڑا حصہ ہے جو مغربی یورپ پر ایک ہائی پریشر سسٹم کے نیچے پھنس گیا ہے۔ اسپین کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت اس ہفتے کے آخر میں۳۸؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ اٹلی نے پہلے ہی کئی علاقوں میں بیرونی کام پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جبکہ برطانیہ میں، محکمہ موسمیات نے اب تک کا گرم ترین مئی کا دن ریکارڈ کیا، جہاں جنوب مغربی لندن کے کیو گارڈنز میں درجہ حرارت ۳۴؍ اعشاریہ ۸؍ درج سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس نے گزشتہ ریکارڈ کو تقریباً دو ڈگری سے توڑ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: میدان عرفات میں ٹھنڈک کے خصوصی انتظامات، چھتری کے استعمال کی ہدایت
لندن میں رہائشیوں اور سیاحوں کو ان غیر معمولی حالات سے نمٹنے میں دشواری ہوئی، جہاں سال کے اس وقت درجہ حرارت عام طور پر ۱۷؍ سے۱۸؍ ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔موسمیاتی سائنسدانوں نے بار بار خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے چلنے والی آب و ہوا کی تبدیلی ،شدید موسمی واقعات بشمول گرمی کی لہروں، خشک سالی اور سیلاب کو شدت دے رہی ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت کے ریکارڈ کثرت سے ٹوٹ رہے ہیں۔ بعد ازاں محکمہ موسمیات کے ماہر گریگ ڈیورسٹ نے ان بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو عمل میں آنے والی آب و ہوا کی تبدیلی کی ایک اچھی علامت قرار دیا اور کہا کہ ایسی گرمی تیزی سے نیا معمول بن سکتی ہے۔واضح رہے کہ یہ انتباہ ایسے وقت آیا ہے جب چند روز قبل برطانیہ کے موسمیاتی مشیروں نے کہا تھا کہ ملک ایسی آب و ہوا کے لیے تعمیر کیا گیا تھا جو اب موجود نہیں رہی، اور انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ا سکولوں اوراسپتالوں جیسے بنیادی ڈھانچے کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے مطابق ڈھالیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ۲۰۲۲؍کے موسم گرما میں تاریخ میں پہلی بار۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ کا نشانہ عبور کر چکا ہے۔ آئرلینڈ نے بھی مئی کے گرم ترین دن ریکارڈ کیے، جہاں کلارنی اور کلونمیل میں درجہ حرارت ۲۸؍ اعشاریہ ۸؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اسکاٹ لینڈ میں، ایڈنبرگ کی آرتھرز سیٹ پہاڑی کے قریب جب درجہ حرارت۲۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جھاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی اور دھواں پورے شہر میں پھیل گیا۔اس کے علاوہ فرانس کے کئی شہروں میں درجہ حرارت کے درجنوں ریکارڈ ٹوٹ گئے، جس کی وجہ سے آٹھ مغربی علاقوں میں ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا گیا۔ ایجنسی نے خبردار کیا کہ غیر معمولی گرم موسم ہفتے کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے۔ جہاں جنوب مغربی قصبے برجراک نے پیر کو۳۴؍ اعشاریہ ۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا، جبکہ نانتس اور اینجرز نے بھی غیر معمولی طور پر زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو چہاردہم کا اے آئی پر بڑا انتباہ، کہا’مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنا ہوگا‘
دریں اثناء فرانسیسی وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو سے جمعرات کو سینئر وزراء کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرنے کی توقع ہے تاکہ جاری ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے حکومت کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس دوران پیرس نے سنیچر کو پہلی بار اس سال۳۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ کا نشانہ عبور کرتے ہوئے ۳۱؍ اعشاریہ ۹؍ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا تھا۔اس کے نتیجے میں کھیلوں کے مقابلوں میں بھی حفاظتی خدشاتپیدا ہو گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ایک شخص اتوار کو پیرس میں۱۰؍ کلومیٹر کی دوڑ کے دوران انتقال کر گیا، جبکہ Maisons-Alfort میں ایک اور دوڑ کے بعد۱۰؍ دیگر افراد کو تشویشناک حالت میںاسپتال میں داخل کرایا گیا۔اسپین کی اسٹیٹ میٹرولوجیکل ایجنسی (Aemet) نے خبردار کیا کہ سال کے اس وقت کے لیے غیر معمولی طور پر زیادہ درجہ حرارت پورے ہفتے ملک کے بیشتر حصوں میں جاری رہے گا، سوائے کینری جزائر کے۔
دریں اثنا، اٹلی کے لازیو علاقے، جس میں روم بھی شامل ہے، نے ہنگامی ضوابط کی منظوری دی جس کے دوپہرساڑھے ۱۲؍ بجے سے شام ۴؍بجے کے درمیان بیرونی کام کو ممنوع کردیا گیا، خاص طور پر ان شعبوں میں جن میں دھوپ میں طویل وقت رہنا شامل ہو، جیسے کاشتکاری، تعمیرات، اور لاجسٹکس۔ یہ اقدامات۱۵؍ ستمبر تک نافذ العمل رہیں گے، جو گزشتہ سال کی گرمی کی لہر کے دوران متعارف کردہ اسی طرح کی پابندیوں کی توسیع ہیں۔