Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوپ لیو چہاردہم کا اے آئی پر بڑا انتباہ، کہا’مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنا ہوگا‘

Updated: May 26, 2026, 6:02 PM IST | Vatican City

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان پوپ لیو چہاردہم نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اے آئی اگر بے قابو رہی تو یہ انسانی معاشرے، روزگار اور امن کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اپنی نئی انسائیکلیکل’’میگنیفیکا ہیومینیٹاس ‘‘ میں انہوں نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی لیڈروں سے فوری اور اخلاقی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

Pope Leo IV. Photo: INN
پوپ لیو چہاردہم۔ تصویر: آئی این این

پوپ لیو چہاردہم نے اپنی پوپ شپ کی پہلی بڑی تعلیمی دستاویز جاری کر دی ہے، جس میں انہوں نے دنیا کو سخت تنبیہ کی ہے کہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کو ’غیر مسلح‘ کرنا ضروری ہے، ورنہ یہ معاشرے کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے الفاظ کی شدت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا:’’میں جانتا ہوں کہ یہ لفظ سخت ہے، لیکن میں نے اسے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے کیونکہ یہ وقت ایسے الفاظ کا تقاضا کرتا ہے جو لوگوں کی توجہ حاصل کر سکیں۔ ‘‘یہ دستاویز ایک ’’انسائیکلیکل‘‘ (Encyclical) ہے، جو روایتی طور پر کیتھولک بشپ صاحبان کیلئے لکھی جاتی ہے لیکن جدید دور میں یہ چرچ سے آگے بڑھ کر حکومتوں، کمپنیوں اور دنیا بھر کے عام لوگوں کے لیے ایک پیغام بن چکی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتے‘: پاکستان نے ٹرمپ کی معاہدہ ابراہیم میں شمولیت کی ترغیب کو مسترد کردیا

’’میگنیفیکا ہیومینیٹاس‘‘ کیا ہے؟
اس نئی انسائیکلیکل کا عنوان’’Magnifica Humanitas‘‘ (شاندار انسانیت) ہے، اور اس کا مرکزی موضوع مصنوعی ذہانت ہے۔ یہ دستاویز بہت طویل ہے، جس کا انگریزی متن تقریباً۴۲؍ ہزار ۳۰۰؍ الفاظ پر مشتمل ہے۔ پوپ نے اس دستاویز کو ویٹیکن میں اے آئی کمپنی ’’’ Anthropic ‘‘کے شریک بانی کرسٹوفر اولاہ کے ساتھ پیش کیا۔ اس کا بنیادی پیغام انسانی وقار اور انسانی اختیار کے تحفظ پر مبنی تھا، ایسے وقت میں جب مشینیں تیزی سے ملازمتوں اور فیصلہ سازی پر قبضہ کرتی جا رہی ہیں۔ 
’’ٹیکنالوجی دشمن نہیں، مگر‘‘
پوپ نے واضح کیا کہ وہ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے لکھا:’’ٹیکنالوجی کو بذاتِ خود انسانیت کی مخالف قوت نہیں سمجھنا چاہئے۔ ‘‘لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا استعمال کس طرح کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا:
’’زیادہ منافع کی خواہش ایسے فیصلوں کا جواز نہیں بن سکتی جو منظم انداز میں لوگوں کی ملازمتیں ختم کر دیں۔ ‘‘ ایک مقام پر پوپ لیو نے براہِ راست ڈیولپرز اور انجینئرز سے ’خصوصی اپیل‘ کی۔ انہوں نے کہا:’’ڈیولپرز ایک خاص اخلاقی اور روحانی ذمہ داری رکھتے ہیں، کیونکہ ہر ڈیزائن کا انتخاب انسانیت کے بارے میں ایک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق اے آئی بنانے والے صرف اوزار تیار نہیں کر رہے بلکہ انسانی زندگی کے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جیسے ماضی میں غلامی کو معمول بنا لیا گیا تھا، ویسے ہی آج دنیا’ڈجیٹل غلامیوں ‘‘ کی طرف بڑھ سکتی ہے، جہاں انسان ایسے نظاموں کیلئے محض ایک آلہ بن جائیں گے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اسپتال داخل

پوپ کی فوری تجاویز
انسائیکلیکل میں پوپ لیو نے کئی فوری اقدامات کا مطالبہ کیا:
(۱) حکومتیں نجی اے آئی کمپنیوں کو قانون کے دائرے میں لائیں 
(۲) جن کارکنوں کی ملازمتیں خطرے میں ہیں انہیں تحفظ اور نئی تربیت دی جائے 
(۳) اسکول طلبہ کو اے آئی کے بارے میں تنقیدی انداز میں سوچنا سکھائیں 
(۴) بچوں کو نقصان دہ، پرتشدد یا جعلی اے آئی مواد سے محفوظ رکھا جائے 
(۵) ہتھیاروں اور فوجی فیصلوں پر ہمیشہ انسانوں کا کنٹرول برقرار رہے 
انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں انسان کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا’’ایسا معاشرہ جو اعلیٰ تکنیکی ترقی کے باوجود صرف تھوڑے سے لوگوں کو روزگار فراہم کرے، بہت سے افراد کو زبردستی بے عملی کی طرف دھکیلنے کا خطرہ رکھتا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ مادی ترقی اور انسانی زوال کا ایک تضاد پیدا کرتا ہے، جو منصفانہ اور مستحکم سماجی امن کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ پوپ لیو اپنی پوپ شپ کے آغاز سے ہی مصنوعی ذہانت کے خطرات کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ پوپ بننے کے دوسرے ہی دن انہوں نے کارڈینلز سے کہا تھا کہ چرچ اے آئی کے ان خطرات پر توجہ دے گا جو انسانی وقار، انصاف اور محنت کو متاثر کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: حتمی معاہدہ تک پہنچنے کیلئے ایران کو۷؍دن کی مہلت

جنگ اور ہتھیاروں پر سخت انتباہ
انسائیکلیکل کا ایک بڑا حصہ جنگ اور اے آئی کے فوجی استعمال پر مرکوز ہے۔ پوپ لیو نے اے آئی سے چلنے والے ہتھیاروں کے تصور کی سخت مذمت کی اور خبردار کیا کہ انسانی کنٹرول کم ہونے سے جنگ زیادہ خطرناک اور شروع کرنا آسان ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا:’’کوئی بھی الگورتھم جنگ کو اخلاقی طور پر قابلِ قبول نہیں بنا سکتا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی جنگ کی فطری غیر انسانی کیفیت کو ختم نہیں کرتا بلکہ تنازعات کو زیادہ تیز اور دور سے کنٹرول ہونے والا بنا دیتا ہے، جس سے تشدد کے خلاف انسانی رکاوٹ کمزور پڑ جاتی ہے کیونکہ فیصلے صرف ڈیٹا اور پیش گوئیوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ پوپ نے سیاست میں اے آئی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی، خاص طور پر جعلی یا تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لوگ گمراہ ہو سکتے ہیں اور حقیقت مسخ ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے مزید تقسیم اور الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا معاملہ: ملائیشیا اسرائیل کو عالمی عدالت میں لے جانے کی تیاری میں

ویٹیکن میں دیا گیا پیغام
ویٹیکن میں ہونے والی تقریب میں پوپ لیو نے کہا کہ ان کے خیالات سائنسدانوں، انجینئروں اور سیاسی لیڈروں سے گفتگو کے نتیجے میں سامنے آئے۔ کرسٹوفر اولاہ کے ساتھ اپنے تعاون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انسانیت کیلئے ایک راستہ تلاش کرنےکیلئے مل کر کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا: ’’یہ کتنی بڑی امید کی علامت ہے کہ ہم اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی بات سن سکتے ہیں۔ ‘‘
اولاہ، جو خود کیتھولک نہیں ہیں، نے پوپ کی اس کوشش کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان جیسی کمپنیوں پر ایسے دباؤ موجود ہوتے ہیں جو انہیں درست کام سے دور لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ہمیں ایسی اخلاقی آوازوں کی ضرورت ہے جنہیں مفادات اور دباؤ جھکا نہ سکیں۔ ‘‘مزید کہا:’’آج صرف شروعات ہے۔ یہ ان لوگوں کے درمیان ایک طویل تعاون کا آغاز ہے جو یہ ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو وہ چیزیں دیکھ سکتے ہیں جو ہم اندر سے نہیں دیکھ پاتے۔ ‘‘اس تقریب میں مذہبی ماہرین، ویٹیکن حکام، سفارت کار، صحافی اور سائنسداں شریک تھے، جن میں ہولی سی کیلئے امریکی سفیر برائن برچ بھی شامل تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK