Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ میں توانائی کا بحران، ایندھن کی قیمتیں آسمان پر، کئی ممالک کا سبسڈی کا اعلان،قیمتوں پر گرفت سخت

Updated: March 26, 2026, 4:05 PM IST | Brussels

یورپی کمیشن نے توانائی کے بحران سے نمٹنے اور مشترکہ ردِعمل کیلئے تعاون کا آغاز کردیا ہے۔ کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کے امدادی اقدامات عارضی اور ہدف شدہ ہونے چاہئیں۔

Fuel prices in Europe have soared to unprecedented levels. Photo: X
یورپ میں ایندھن کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ تصویر: ایکس

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی چین میں تعطل کی وجہ سے یورپی معیشتوں پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے یورپی ممالک ایندھن کے بحران کا سامنا کررہے ہیں۔

کئی یورپی ممالک میں ایندھن کی قیمتیں ۲ یورو فی لیٹر (۳۲ء۲ ڈالر) کی حد عبور کر چکی ہیں، جس سے صنعتوں اور گھرانوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۱۹ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس نے حکومتوں پر فوری کارروائی کیلئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔

یورپی کمیشن نے اس بحران سے نمٹنے اور مشترکہ ردِعمل کیلئے تعاون کا آغاز کردیا ہے۔ کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئین نے خبردار کیا کہ یورپ کا توانائی کا شعبہ، اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کے امدادی اقدامات عارضی اور ہدف شدہ ہونے چاہئیں۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی ہر رکن ملک کی ضرورت کے مطابق فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے باعث جنوبی ایشیا میں ایندھن کا بحران؛ آسیان ممالک میں ہنگامی اقدامات کا نفاذ

یورپی ممالک میں ہنگامی اقدامات کا نفاذ

جرمنی نے ایندھن کے مارکیٹ پر اپنے کنٹرول کو سخت کیا ہے۔ اب ملک میں ایندھن کے مراکز کو دن میں صرف ایک بار نصف شب کو قیمتیں بدلنے کی اجازت ہوگی۔ حکام نے قیمتوں میں ہیرا پھیری روکنے کیلئے معائنے سخت کر دیئے ہیں اور اینٹی ٹرسٹ اختیارات میں اضافہ کیا ہے۔

اٹلی نے ٹیکس ریلیف کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایندھن پر ٹیکس میں ۲۵ء۰ یورو فی لیٹر کی کٹوتی متعارف کرائی ہے۔ وزیراعظم جارجیا میلونی نے پمپ کی قیمتوں کو براہِ راست عالمی خام تیل کی شرحوں سے جوڑ دیا ہے۔ حکومت نے اپنے مالیاتی واچ ڈاگ کے ذریعے معائنے بھی شروع کئے ہیں۔

فرانس، جو جی ڈی پی کے تقریباً ۱۱۷ فیصد تک پہنچنے والے عوامی قرضوں کے باعث معاشی مشکلات کا شکار ہے، نے وسیع پیمانے پر سبسڈی دینے سے گریز کیا ہے۔ اس کے بجائے، فرانسیسی حکومت ٹرانسپورٹ اور ماہی گیری جیسے شعبوں کو ہدف شدہ مدد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کررہی ہے، اس کے تحت انہیں مختلف بنیادوں پر محدود ریلیف دی جا رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئی ای اے کا ایندھن بچانے کا منصوبہ: ہندوستان کا ’جفت-طاق‘ ماڈل بین الاقوامی سطح پر لاگو کرنے پر غور

برطانیہ میں بجلی اور قدرتی گیس کے شعبہ کے ریگولیٹر ’آف جیم‘ (Ofgem) کی جانب سے جولائی میں توانائی کی قیمتوں کی سالانہ حد کو ۲۲۰۰ ڈالر سے بڑھا کر ۲۸۸۲ ڈالر کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ برطانوی وزیرِ خزانہ ریچل ریوز نے بتایا کہ حکومت کمزور گھرانوں کیلئے ٹیکسوں میں مخصوص کٹوتیوں پر توجہ دے رہی ہے۔

اسپین نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ۸ء۵ بلین ڈالر کے امدادی پیکیج کو منظوری دی ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اہم شعبوں کیلئے ۲۳ء۰ ڈالر فی لیٹر کی ایندھن کی سبسڈی اور توانائی پر وی اے ٹی ۲۱ فیصد سے کم کرکے ۱۰ فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے میں کرایوں کی مد میں مدد اور توانائی کی فراہمی منقطع ہونے کے خلاف تحفظ جیسے وسیع تر اقدامات بھی شامل ہیں۔

مشرقی یورپی ممالک بھی اس ضمن میں اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ ہنگری نے ایندھن کی قیمتوں کی حد مقرر کر دی ہے، جبکہ کروشیا، البانیہ، کوسوو اور یونان نے ایندھن کے اخراجات اور منافع کے مارجن پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK