Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پر یورپ اور خلیجی خدشات: ہجرت، توانائی اور سلامتی کو خطرہ

Updated: March 07, 2026, 8:16 PM IST | Berlin

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر یورپی اور خلیجی ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق طویل جنگ یورپ کیلئے توانائی کی فراہمی، ہجرت اور سلامتی کے بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے ریاستی ادارے کمزور ہوئے یا خطے میں پراکسی تنازعات بڑھے تو اس کے اثرات براہِ راست یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

(۱) جرمنی کا انتباہ: ایران جنگ یورپ میں ہجرت، توانائی اور سلامتی کا بحران پیدا کر سکتی ہے
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق طویل جنگ یورپ کیلئے سنگین اثرات کا باعث بن سکتی ہے، جن میں توانائی کی فراہمی میں خلل، ہجرت کے دباؤ میں اضافہ اور وسیع سلامتی خطرات شامل ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مرز نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام ماضی میں بھی یورپ پر بڑے اثرات مرتب کرتا رہا ہے۔
مرز نے کہا، ’’لامتناہی جنگ ہمارے مفاد میں نہیں ہے‘‘، اور زور دیا کہ اگر ایران کے ریاستی ادارے کمزور ہو گئے یا ملک کے اندر پراکسی تنازعات جنم لینے لگے تو اس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال براہِ راست یورپی معیشتوں اور سرحدی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔
جرمن حکام کا ماننا ہے کہ خطے میں عدم استحکام توانائی کی عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور یورپ کی طرف مہاجرین کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کے دوران دیکھا گیا۔
اسی لئے جرمن حکومت نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں پر توجہ دیں۔ مرز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں ایک ایسا علاقائی سلامتی نظام تشکیل دینا ضروری ہوگا جو ’’اسرائیل اور خلیجی ریاستوں سمیت تمام ممالک کی سلامتی اور وجود کی ضمانت دے‘‘، تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایک وسیع امن معاہدہ ممکن ہو سکے۔

(۲) خلیجی ممالک کو علاقائی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ
خلیجی خطے کی حکومتیں اس بات پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع اپنے ابتدائی دائرے سے باہر نکل کر پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔ خطے کے کئی ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور اہم بنیادی ڈھانچے موجود ہیں جو ممکنہ جوابی کارروائیوں کی صورت میں نشانہ بن سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق علاقائی لیڈروں نے پہلے ہی واشنگٹن کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر براہِ راست حملے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کو جنم دے سکتے ہیں، جس سے اہم عسکری تنصیبات اور شہری آبادی دونوں خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے مبینہ ڈرون حملوں نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سلامتی کے ماہرین کے مطابق خلیجی خطہ عالمی توانائی کی فراہمی کے نظام کا مرکزی حصہ ہے، اس لئے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی بین الاقوامی منڈیوں کیلئے انتہائی حساس معاملہ بن سکتی ہے۔ حتیٰ کہ محدود حملے بھی تیل کی پیداوار اور سمندری تجارتی راستوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لئے علاقائی حکومتیں تمام فریقوں سے تحمل اور اتحادیوں کے درمیان قریبی رابطے پر زور دے رہی ہیں تاکہ تنازع ایک وسیع مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں تبدیل نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK