• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی ممالک سے اقوام متحدہ اور کثیرفریقی نظام کے تحفظ کی اپیل

Updated: February 12, 2026, 10:01 AM IST | Agency | Paris

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے یورپی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین پر مبنی عالمی نظام کا تحفظ کریں، جعلی خبروں اور غلط بیانیوں کے مقابلے میں سچائی کا دفاع کرنے میں مدد دیں اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے لئے حمایت اور تعاون فراہم کریں۔

UN General Assembly President Annalena Baerbock addresses the European Parliament in Strasbourg, France.ٖPhoto:INN
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے- تصویر:آئی این این
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر مشکل حالات کے تناظر میں کثیرالفریقی نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ۲۰۲۶ء کے ابتدائی ۴۰؍ دنوں  میں ہی دنیا وینزویلا، ایران اور گرین لینڈ کے بحرانوں کا سامنا کر چکی ہے جبکہ یوکرین، غزہ، سوڈان اور دیگر علاقوں میں تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔انہوں نے قانون سازوں سے کہا کہ بین الاقوامی نظام نہ صرف دباؤ میں ہے بلکہ اس پر براہ راست حملہ ہو رہا ہے۔ دنیا کو ایسی جنگوں کا سامنا ہے جو نہ تو دفاع کے کسی بہانے سے ہو رہی ہیں اور نہ ہی ان کا سبب بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنانا ہے۔ اس کے بجائے بیشتر جنگیں عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ 
اینالینا نے خبردار کیا کہ جب دنیا کو تعاون اور اقوام متحدہ کی زیادہ ضرورت ہے اس وقت طاقتور ممالک اس سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں یا کھلے عام اس پر حملہ آور ہیں جن میں وہ ملک بھی شامل ہیں جن پر امن و سلامتی کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کا تحفظ 
اینالینا بیئربوک نے یاد دلایا کہ چار سال قبل، جب وہ جرمنی کی وزیر خارجہ تھیں تو انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے یورپ میں امن کے دفاع کے لیے اقوام متحدہ کے کردار پر زور دیا تھا جبکہ اس وقت روس یوکرین پر حملہ کر چکا تھا۔  آج وہ جنرل اسمبلی کی صدر کی حیثیت سے یورپ آئی ہیں تاکہ براعظم سے یہ اپیل کر سکیں کہ وہ اقوام متحدہ کے لئے کھڑا ہو، کیونکہ دنیا کو اقوام متحدہ کی ضرورت ہے اور اس کے منشور میں درج اصولوں کو بھی دنیا کی ضرورت ہے۔  دنیا کو ایک بین العلاقائی اتحاد تشکیل دینا ہوگا تاکہ منشور اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کا تحفظ اور دفاع کیا جا سکے جو سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سچ کے دفاع کی بات کرنا آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔ جب بلیک میلنگ، دباؤ، دھمکیوں یا خوف زدہ کرنے والے ہتھکنڈوں کا سامنا ہو تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ 
یورپی یونین کے اتحاد کی مثال 
اینالینا بیئربوک نے زور دیا کہ کوئی بھی ملک یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا اور اس ضمن میں یورپی یونین کے اجتماعی اقدام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل یورپ نے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ فوجیوں کی تعیناتی دیکھی تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یورپی یونین ایک ہی ہفتے میں متحد ہو جائے گی جبکہ اسے انتہائی سست، حد سے زیادہ بیوروکریٹک اور منقسم کہا جاتا ہے۔ تاہم، یورپ نے یہ قدم اکیلے نہیں اٹھایا تھا بلکہ اسے دنیا کے دیگر ممالک کا تعاون بھی حاصل تھا۔  آج دنیا پکار رہی ہے۔ بات صرف گرین لینڈ کی نہیں، بلکہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کی بھی ہے۔ یہ عالمگیر امن اور اقوام متحدہ کے منشور کا معاملہ ہے۔ اس ادارے کو یورپ کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ اس کا جواب واضح اور زوردار ہو گا کہ ہاں یہ براعظم اپنے امن، عالمی امن اور اقوام متحدہ کے لیے کھڑا ہو گا۔ 
 
 
اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت 
جنرل اسمبلی کی صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ کو یورپ کی ضرورت اصلاحات کے لیے بھی ہے تاکہ اسے بہتر، زیادہ موثر اور زیادہ فعال ادارہ بنایا جا سکے۔ اگرچہ ۸۰؍ سال پرانا یہ ادارہ کامل نہیں، مگر انہوں نے واضح کیا کہ دنیا اس کے بغیر بہتر نہیں ہو سکتی۔ ناقص ہونا کمزوری نہیں بلکہ بہتری اور مضبوطی پیدا کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کے مخالف عناصر کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس ادارے کی ناکامیوں یا خامیوں کو ہتھیار بنا کر پورے نظام کو تہس نہس کر دیں یا محدود اور مخصوص گروہ عالمی امن کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لے۔
 
 
اینالینا بیئربوک نے کہا کہ اقوام متحدہ وجودی نوعیت کے مالی بحران سے بھی دوچار ہے کیونکہ بعض رکن ممالک اپنی واجب الادا رقوم یا تو تاخیر سے ادا کر رہے ہیں یا برسوں سے ادا ہی نہیں کر رہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے مالیاتی قوانین کے تحت کوئی بھی غیر خرچ شدہ رقم رکن ممالک کو واپس کرنا لازم ہے خواہ وہ رقم حقیقت میں موصول ہی نہ ہوئی ہو۔ اقوام متحدہ کو اس مالیاتی اصول میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کو آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ باعث حیرت ہے کہ ۸۰؍ برس میں چار ارب ممکنہ امیدواروں کے باوجود اقوام متحدہ نے کبھی کسی خاتون کو اپنے اعلیٰ ترین منصب پر منتخب نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK