• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی کہنے پرامریکی مذہبی آزادی کمیشن کی کمشنر پر چوطرفہ تنقیدیں

Updated: February 12, 2026, 9:35 AM IST | Washington

غزہ میں اسرائیلی کارروائی کو نسل کشی کہنے پرامریکی مذہبی آزادی کمیشن کی کمشنر چوطرفہ حملوں کی زد پر ہیں، انہوں نے اپنے بیان میں صہیونیت پر بھی شدید تنقید کی،جس کے بعد اسرائیل نواز شخصیات نے انہیں نشانہ بنایا۔

Carrie Prejean Boller, a commissioner at the White House Religious Liberty Commission. Photo: X
وہائٹ ہاؤس کمیشن برائے مذہبی آزادی کی کمشنر کیری پریجن بولر۔ تصویر: ایکس

مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے قائم کردہ وہائٹ ہاؤس کمیشن برائے مذہبی آزادی کی کمشنر کیری پریجن بولر غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کو نسل کشی کہنے پر  اسرائیل نواز عناصر اور یہودی صہیونی تنظیموں  کی جانب سے  شیدید تنقید کا سامنا کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کو واشنگٹن ڈی سی میں میوزیم آف دی بائبل میں یہود دشمنی کے خاتمے کے لیے ہونے والی سماعت کے دوران بولر نے متعدد گواہان سے سوالات کیے، جن میں فلسطین مخالف شخصیات بھی شامل تھیں۔کیتھولک قدامت پسند کارکن اور سابق مس کیلیفورنیا بولر نے پوچھا کہ کیا اسرائیل پر تنقید، صہیونیت کی مخالفت، غزہ میں نسل کشی کے خلاف احتجاج، یا ریاست اسرائیل کی سیاسی حثیت کی تائید نہ کرنا یہود دشمنی تصور کیا جائے گا؟بعد ازاں انہوں نے مقررین سے باربار پوچھا کہ کیا وہ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت  کی مذمت کریں گے، جسے انہوں نے’’ امریکی عوام کی بڑی تعداد نسل کشی قرار دے رہی ہے،‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیتھولک عیسائی ، صہیونیت کی تائید نہیں کرتے ۔ تو کیا تمام کیتھولک  عیسائی یہود دشمن ہیں؟اس کے علاوہ کمیشن کی رکن نے یہوددشمنی کی مروجہ تعریف کو بھی چیلنج کیا۔انہوں نے کہا کہ ،’’میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ یہود دشمنی کی تعریف کیا ہے؟ اگر میں ریاست اسرائیل کی سیاسی حثیت کی تائید نہیں کرتی، تو کیا میں یہود دشمن ہوں؟ جواب ہاں میں ہے یا ناں میں؟

یہ بھی پڑھئے: سڈنی میں اسرائیلی صدر ہرزوگ کے خلاف مظاہروں کے دوران پولیس نےنمازیوں کو جبراً منتشر کیا

سماعت میں گواہان میںا یٹزی فرینکل، ایری برمن، شابوس کیسٹن بام اور بروس پرل شامل تھے۔بولر نے ان پر اس وقت ناراضگی جتائی جب انہوں نے اسرائیل اور غزہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے گواہوں سے پوچھا،چونکہ آپ نے اسرائیل کا ۱۷؍ بار ذکر کیا ہے، کیا آپ اسرائیل کے غزہ میں کیے گئے اقدامات کی مذمت کرنے کو تیار ہیں؟ آپ اس کی مذمت نہیں کریں گے؟ اس کے علاوہ بولر نے قدامت پسند مبصرین کینڈیس اوونس اور ٹکر کارلسن کا بھی یہود دشمنی کے الزامات کا دفاع کیا۔ وہائٹ ہاؤس کی مبینہ طور پر امریکی و فلسطینی پرچم والا پن پہننے والی اس رکن کا کہنا تھا کہ وہ اوونس روزانہ دیکھتی ہیں اور وہ یہود دشمن نہیں ہیں۔بولر نے ڈلن سے پوچھا کہ کیا وہ بائبل کی آیت ایک تھیسلونین ۲:۱۵؍ کو سینسر کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : گیلین میکسویل کا’ نائن الیون‘ حملوں کے بعد عربوں کے خاتمے پر مبنی متنازع ای میل

تاہم سامعین میں سے ایک فرد نے بولر کی بائبل آیات کے استعمال پر اعتراض کیا تو اسے ہال سے نکال دیا گیا۔بولر نے عیسائی صہیونی پادری جے سی کوپر سے سوال کیا کہ کیا انہیں تشویش ہے کہ ’’یہودیوں اور رومیوں نے عیسیٰؑ کو قتل کیا‘‘، کے بیان کویہود دشمنی قرار دیا جاسکتا ہے۔  کوپر نے جواب دیا،یہ یہود دشمنی کیوں ہوگا؟ یہ تو محض ایک حقیقت ہے یہ بائبل کی تاریخ ہے۔بولر نے محکمہ انصاف کے سینئر وکیل لیو ٹیرل سے پوچھا کہ وہ اسرائیل مخالف طلبہ کے آزادی اظہار کے حق کے خلاف کیوں ہیں۔دریں اثناء سماعت کے بعد انتہائی دائیں بازو کے کارکنان، اسرائیل نواز لابی اور ٹرمپ کے حامی شخصیات انہیں کمیشن سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ٹرمپ کی حلیف لورا لومر نے بولر پر یہودی مندوبین کو ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امید ہے انہیں ہٹا دیا جائے گا۔منگل کو ہنگامے کے درمیان بولر نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ امریکہ میں صہیونیت کی بالادستی کے خلاف کھڑی رہیں گی۔انہوں نے ایکس پر لکھا،’’میں ایک قابل فخر کیتھولک ہوں۔ مجھے بائبل کی پیشگوئی کی تکمیل کے طور پر صہیونیت قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ میں ایک آزاد امریکی ہوں، کسی غیر ملک کی غلام نہیں۔‘‘بولر نے لکھا کہ، ’’ اگر مذہبی آزادی کمیشن مجھے میرے کیتھولک عقیدے کی وجہ سے کمیشن سے برطرف کرتا ہے تو یہ ثابت ہوگا کہ ان کا مشن کبھی مذہبی آزادی نہیں بلکہ صہیونی ایجنڈا تھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK