Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہرمز سے پہلا یورپی جہاز گزرا، کشیدگی کے باوجود راستہ جزوی طور پر کھل گیا

Updated: April 03, 2026, 9:04 PM IST | Tehran

ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز عالمی کشیدگی کا مرکز بنی رہی، تاہم محدود بحری آمدورفت بحال ہونے لگی ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کو انتباہ دیا جبکہ عمان کے ساتھ مشترکہ نگرانی کے نئے پروٹوکول پر کام جاری ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) ایران کا اقوام متحدہ کو انتباہ: آبنائے ہرمز پر اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی اشتعال انگیز اقدام سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بیرونی طاقتوں کی کسی بھی قسم کی عسکری مداخلت صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوں گے۔ ایرانی نمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’صورتحال کو پیچیدہ نہ بنایا جائے اور اشتعال انگیزی سے مکمل گریز کیا جائے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی خودمختاری کے تحفظ کیلئے اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ حکام نے کہا کہ اس اہم بحری راستے میں غیر ضروری کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل تنازع: مشرق وسطیٰ کا بلند ترین ’’بی ون‘‘ پل اسرائیلی حملے میں تباہ

(۲) آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت بحال: پہلا یورپی جہاز گزرا
رپورٹس کے مطابق ایک فرانسیسی ملکیت والا اور مالٹا کے جھنڈے کے تحت چلنے والا کنٹینر جہاز آبنائے ہرمز سے گزرا، جو حالیہ کشیدگی اور جزوی بندش کے بعد مغربی یورپ سے وابستہ پہلا جہاز ہے۔ اس پیش رفت کو بحری سرگرمیوں کی جزوی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ’’یہ حالیہ کشیدگی کے بعد پہلا موقع ہے کہ مغربی یورپ سے وابستہ جہاز نے ہرمز عبور کیا ہے۔‘‘
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مکمل بحالی نہیں ہوئی لیکن محدود سطح پر جہاز رانی دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی تجارت کیلئے ایک اہم اشارہ ہے کیونکہ ہرمز عالمی تیل سپلائی کا اہم راستہ ہے۔ حکام کے مطابق سیکوریٹی خدشات بدستور موجود ہیں اور جہازوں کی نقل و حرکت سخت نگرانی میں ہو رہی ہے جبکہ بحری انشورنس اور لاجسٹکس اخراجات میں اضافہ برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز پر مذاکرات میں ہندوستان شامل ہوگا۔ وزارت خارجہ

(۳) ایران عمان نیا پروٹوکول: جنگ کے دوران بحری نقل و حمل کی مشترکہ نگرانی
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ ایک نیا پروٹوکول تیار کر رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی مشترکہ نگرانی کی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد جنگ کے دوران جہاز رانی کے نظام کو منظم کرنا اور ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم عمان کے ساتھ مل کر بحری نقل و حمل کی نگرانی کیلئے مشترکہ نظام قائم کر رہے ہیں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق اس پروٹوکول کے تحت جہازوں کی نقل و حرکت کو ہم آہنگ بنایا جائے گا اور حساس علاقوں میں سیکوریٹی نگرانی بڑھائی جائے گی۔ حکام نے کہا کہ یہ اقدام حادثات اور تصادم کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اس پروٹوکول کے ذریعے عالمی سطح پر یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ ہرمز میں مکمل بندش کے بجائے کنٹرولڈ آپریشن کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ سیکوریٹی خدشات برقرار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK