Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ کی بنا پر یورپی لگژری برانڈس منافع میں کمی کا شکار

Updated: April 14, 2026, 11:18 AM IST | Agency | Dubai

۴۰۰؍ بلین ڈالر کی انڈسٹری کو زبردست جھٹکا، فروخت متاثر، متحدہ عرب امارات کے مالس میں فروخت ۳۰؍ سے ۵۰؍ فیصد تک گھٹ گئی، جلد بحالی کی امید بھی کم۔

About 5 Percent Of Global Luxury Goods Consumption Is In West Asia Alone.Photo:INN
عالمی سطح پر لگژری اشیاء کی کھپت کی تقریباً۵؍ فیصد کھپت صرف مغربی ایشیا میںہے۔تصویر:آئی این این
 ایران جنگ کی وجہ سے یورپ کے بڑے بڑے لگژری برانڈس  بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔  دبئی اور ابو ظہبی میں ان کی  فروخت  غیر معمولی طور پر کم ہو گئی ہے کیونکہ ایران تنازع نے اس شعبے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، جو ۴۰۰؍ ارب ڈالر کی صنعت کیلئے بڑا دھچکا ہے ۔ اس کی قدر پہلے ہی گزشتہ ۳؍ برسوں میں کم ہوئی ہے۔ ایران پر تھوپی گئی جنگ کی وجہ سے مارچ میں متحدہ عرب امارات کے’’مال آف دی ایمیریٹس‘‘ میں  یورپی لگژری اشیاء کی  فروخت گزشتہ سال کے مارچ کے مقابلے میں۳۰؍ سے۵۰؍ فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ 
یہ اعداد و شمار اس تنازعہ کے لگژری شعبے پر اثرات کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب  ان میں سے کئی لگژری برانڈس  اس ہفتے اپنی سہ ماہی فروخت کے نتائج جاری کرنے والے ہیں۔مال آف دی ایمریٹس میں آنے والے افراد کی تعداد مارچ میں۱۵؍ فیصد کم ہوئی، جہاں ایل وی ایم ایچ کے برانڈ ’’لوئی ویتون‘‘ اور ’دِیئور، کیئرِنگ کے  گُچی، رچ مونٹ، کارٹیئر، شنائل  اور رولیکس سمیت کئی لگژری برانڈس کے آؤٹ لیٹ موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق  دبئی مال  جو سیاحوں میں زیادہ مقبول ہے اور جہاں لگژری برانڈس کی خاطر خواہ فروخت ہوتی ہے،  وہاں آنے والوں کی تعداد تقریباً۵۰؍ فیصد کم ہو گئی ہے۔اس کی وجہ سےفروخت میں مزید بڑی کمی کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ابو ظہبی میں جو دبئی کے مقابلے میں چھوٹا شاپنگ مرکز ہے اور سیاحوں پر کم انحصار کرتا ہے، گیلریا مال میں مارچ کی فروخت نسبتاً بہتر رہی لیکن پھر بھی مجموعی طور پر تقریباً۱۰؍ فیصد کم رہی۔مال آف دی ایمریٹس، دبئی مال اور گیلریا کے منتظمین نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ ایل وی ایم ایچ،  کیئرِنگ اور ہرمرس   نے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی فروخت اور تنازع کے اثرات پر کوئی جواب  دینے سے گریز کیا ہے۔ 
واضح رہے کہ ۲۰۲۲ء میں لگژری مارکیٹ کی تیزی ختم ہونے کے بعد  جب چین کووڈ-۱۹؍ کے بعد مکمل بحالی میں ناکام رہا اور ترقی کی رفتار سست پڑ گئی تو  ایل وی ایم ایچ  اور کیئرنگ کی مشترکہ مارکیٹ ویلیو۱۰۰؍ ارب یورو سے زیادہ گھٹ گئی  جو اُن کی مجموعی قدر کا ایک چوتھائی سے زیادہ ہے۔مشاورتی ادارے’بائن اینڈ کمپنی ‘ کے مطابق گزشتہ سال پوری صنعت کی سالانہ فروخت میں۲؍فیصد کمی آئی۔  عالمی سطح پر لگژری اشیاء کی کھپت کا تقریباً۵؍ فیصد  صرف مغربی ایشیا میں  فروخت ہوتاہے ، حالیہ برسوں میں  دو ہندسی شرح نمو کے ساتھ اس صنعت کیلئے امید کی کرن بن کر ابھرا تھا  جیسا کہ بارک لیز کی لگژری تحقیق کی سربراہ کیرول میڈجو نے کہا بھی ہے۔ ان کے مطابق  یہ خطہ ایک اسٹریٹجک مارکیٹ تھا جہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھالیکن دبئی کی چمک دمک اور استحکام کی شبیہ کو اس تنازع (ایران جنگ) نے بری طرح تباہ کردیا ہے۔
اس دوران دبئی کی کچھ عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کو  نقصان بھی پہنچا، جن میں برج العرب ہوٹل اور ہوائی اڈے کے کچھ حصے شامل ہیں، جو ایرانی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ جنگ بندی کے حوالے سے سفارتی کوششیں  اگر جلد ہی کامیاب ہوجائیں  تب بھی  اس  تجارتی مرکز  کو دوبارہ معمول پر آنے میں مہینوں لے سکتا ہے۔ 
 
 
برنسٹین کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات، جیسے تیل اور سفر کے بڑھتے اخراجات، مہنگائی یا ممکنہ اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، خریداروں کی دلچسپی کو خلیج سے باہر، خاص طور پر امریکہ میں بھی متاثر کر سکتے ہیں۔جے  اسٹرن اینڈ کمپنی کے پورٹ فولیو منیجر کرسٹوفر روسباخ کے مطابق’’ اگر۲۰۲۶ء میں متوقع لگژری مارکیٹ کی بحالی مؤخر ہو جاتی ہے تو اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘دنیا کا سب سے بڑا لگژری گروپ  ایل وی ایم ایچ  پیر کو اپنی پہلی سہ ماہی کی فروخت رپورٹ  جاری کرے گا، جبکہ کیرنگ اور ہرمرس  اس ہفتے کے آخر میں اپنے نتائج جاری کریں گے۔
 
 
چونکہ مغربی ایشیا کا حجم نسبتاً چھوٹا ہے، اس لیے فوری طور پر سہ ماہی فروخت پر اثر محدود ہوگا، لیکن منافع پر اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔کم کرایوں، کم مزدوری لاگت، زیادہ قیمتوں اور تقریباً نہ ہونے کے برابر ٹیکس کی وجہ سے دبئی لگژری فروخت کیلئے انتہائی منافع بخش مارکیٹ ہے بڑے برانڈس  کیلئے  دبئی میں فی مربع میٹر سالانہ فروخت کئی لاکھ یورو تک پہنچ سکتی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK