Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایلون مسک کے بیان سے کووڈ ویکسین پر نئی بحث، ماہرین کا ردعمل

Updated: April 14, 2026, 11:02 AM IST | New York

ٹیک ارب پتی ایلون مسک کے حالیہ بیان نے کووڈ ۱۹؍ ویکسین کی حفاظت پر دوبارہ عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسک نے ایک وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد انہیں شدید ردعمل محسوس ہوا۔ ویڈیو میں سابق ٹاکسیکولوجسٹ ہیلمٹ سرگئی کے متنازع دعوے شامل ہیں، جنہیں صحت کے حکام نے مسترد کر دیا۔ فائزو اور دیگر عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ ویکسینز سخت کلینیکل ٹرائلز کے بعد منظور کی گئیں اور ان کی حفاظت پر سائنسی اتفاق موجود ہے۔

Elon Musk. Photo: INN
ایلون مسک۔ تصویر: آئی این این

ٹیک ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے ایک متنازع بیان نے ایک بار پھر کووڈ ۱۹؍ ویکسین کی حفاظت کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث کو ہوا دے دی ہے۔ مسک نے ایک وائرل ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویکسین کی دوسری خوراک لینے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا ’’جیسے وہ مر رہے ہوں۔‘‘ اس بیان نے سوشل میڈیا پر تیزی سے توجہ حاصل کی اور مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا۔

یہ ویڈیو سابق فارماسیوٹیکل ٹاکسیکولوجسٹ ہیلمٹ سرگئی کی جرمن پارلیمنٹ میں دی گئی گواہی پر مبنی ہے، جس میں انہوں نے ایم آر این اے ویکسینز، خصوصاً کومیرنیٹی، کی منظوری کے عمل پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حفاظتی مطالعات مکمل نہیں کیے گئے اور ویکسین سے متعلق اموات کی اصل تعداد رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

سرگئی، جو ماضی میں فائزو اورروشے جیسے اداروں سے وابستہ رہے، نے اپنی گواہی میں جرمنی کے پال ایلرک انسٹی ٹیوٹ کے ڈیٹا کا حوالہ دیا، جس میں ویکسینیشن کے بعد رپورٹ ہونے والی اموات شامل تھیں۔ تاہم انہوں نے ان اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا بھی دعویٰ کیا، جسے ماہرین نے سائنسی طور پر غیر مستند قرار دیا۔ دوسری جانب جرمن وزیر صحت کارل لوٹر بیک نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویکسینیشن کے بعد رپورٹ ہونے والی اموات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ویکسین کی وجہ سے ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر کیس کی سائنسی بنیاد پر جانچ کی جاتی ہے اور وجہ و اثر کا تعلق ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی

عالمی سطح پر صحت کے ادارے، بشمول امریکہ اور یورپ کے ریگولیٹرز، بارہا اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ کووڈ ۱۹؍ ویکسینز کو منظوری دینے سے پہلے وسیع پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کیے گئے تھے، جن میں ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار افراد شامل تھے۔ ان مطالعات نے ویکسینز کی حفاظت اور مؤثریت کو ثابت کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے بعد کچھ افراد میں عارضی ضمنی اثرات جیسے بخار، تھکن یا جسم میں درد عام بات ہے، لیکن سنگین ردعمل انتہائی نایاب ہیں۔ ان تمام حالات میں مسک کے بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور سائنسی حقائق کے درمیان فرق کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں ماہرین مسلسل عوام کو مستند معلومات پر انحصار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK