یورپی یونین نے اپنی پہلی غربت مخالف حکمت عملی متعارف کروائی، جس کا مقصد ۲۰۳۰ءتک کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو غربت کے خطرے سے نکالنا اور ۲۰۵۰ءتک اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ تاہم، ناکافی فنڈنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 12:59 PM IST | Berlin
یورپی یونین نے اپنی پہلی غربت مخالف حکمت عملی متعارف کروائی، جس کا مقصد ۲۰۳۰ءتک کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو غربت کے خطرے سے نکالنا اور ۲۰۵۰ءتک اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ تاہم، ناکافی فنڈنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین نے اپنی پہلی غربت مخالف حکمت عملی متعارف کروائی، جس کا مقصد ۲۰۳۰ءتک کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو غربت کے خطرے سے نکالنا اور ۲۰۵۰ءتک اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ تاہم، ناکافی فنڈنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ حکمت عملی اس وقت سامنے آئی ہے جب یورپ میں غربت ایک بڑا چیلنج ہے۔ فی الحال ۹۲؍کروڑ ۷۰؍ لاکھ افراد غربت کے خطرے میں ہیں۔ اس منصوبے میں معیاری ملازمتیں، ضروری خدمات تک رسائی، اور رکن ممالک کے درمیان مربوط اقدامات پر توجہ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وویک راماسوامی نے اوہائیو کی گورنر کی ریپبلکن پرائمری جیت لی، ڈیموکریٹ سے مقابلہ
مزید برآں یہ زندگی کے مختلف مراحل میں غربت سے نمٹنے کے لیے ہدف بنائے گئے اقدامات بھی متعارف کراتا ہے، بشمول بچوں کی غربت سے نمٹنے کی کوششیں، لیبر مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانا، اور پنشن کے نظام کو بہتر بنانا۔واضح رہے کہ یہ اقدام یوروپ میں بڑھتے ہوئے رہائشی اخراجات اور گہرے ہو رہے رہائشی بحران کے درمیان سامنے آیا ہے۔ جبکہ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ،۲۰۲۳ء سے اب تک مکانات کی قیمتوں میں تقریباً ۶۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، مزید یہ کہ اس وقت یورپی یونین میں تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہیں۔علاوہ ازیںہاؤسنگ کےمنصوبے سے متعلق ایک متعلقہ تجویز کا مقصد سستی رہائش تک رسائی کو ممکن بنانااور طویل مدتی احتیاطی اقدامات کے ذریعے بے گھر ہونے کو روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میٹ گالا سے قبل جیف بیزوس کے گھر پر ’’ٹیکس دی رِچ‘‘ احتجاج
درین اثناءحکمت عملی کے وسیع دائرہ کار کے باوجود، ناقدین نے سوال کیا ہے کہ کیا اسے عمل میں لانے کیلئے مالی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ان خدشات نے اس حکمت عملی کی افادیت کو ثانوی مقام پرپہنچا دیا ہے۔