پہلے میونسپل الیکشن پھر کارپوریشن الیکشن میں کئی مقامات پر بی جے پی کو شکست ہوئی مگر وہ میئر یا چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جو تشویشناک ہے۔
بی جے پی الیکشن ہارے یا جیتے، اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہے ۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ ۱۲؍ سال سے ہر الیکشن میں ووٹروں کا یہ یقین قوی ہوتا جا رہا ہے کہ آپ کسی کو بھی ووٹ دیں الیکشن بی جے پی ہی جیتے گی۔ اسکی وجہ عام طور پر بی جے پی حکومت کے ذریعے ای وی ایم اور مشنری کا غلط استعمال تصور کیا جا رہا تھا لیکن اب الیکشن کے بعد ہونے والی سیاسی ہنگامہ آرائیوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ووٹر پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا فریضہ ادا کریں اور بی جے پی مخالف پارٹیوں کو جیت دلادیں تب بھی بی جے پی ہی کسی نہ کسی طرح اقتدار میں آجاتی ہے یا یوں کہیں لائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری پارٹیاں مل کر ایسی ’ حکمت عملی ‘ تیار کر رہی ہیں کہ کامیابی بی جے پی ہی کو ملتی رہے ۔
پہلے میونسپل اور نگر پنچایت الیکشن میں مہایوتی کی تینوں پارٹیوں نے مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں الگ الگ الیکشن لڑا، اس کا فائدہ اٹھانے کے بجائے مہا وکاس اگھاڑی نے بھی اپنا اتحاد ختم کر لیا اور تینوں پارٹیاں کانگریس، شیوسینا (ادھو) اور این سی پی (شرد) نے اپنے اپنے دم پر میدان میں کود پڑیں۔ کہا جا رہا تھا کہ ایسا کرنے سے زیادہ سے زیادہ ووٹوں کو منتشر کرکے بی جے پی کو شکست دی جا سکے گی کیونکہ مقامی سطح پر لوگ پارٹی یا نظریات نہیں بلکہ امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ میونسپل الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں بی جے پی ہی کے ہاتھ لگیں۔ الیکشن کے بعد کہیں کانگریس ، تو کہیں ایم آئی ایم اور کہیں شیوسینا (ادھو) کے اراکین کی مدد سے بی جے پی نے اپنا میونسپل چیئرمین بنوایا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان پارٹیوں نے اپنے خاطی اراکین کے خلاف کارروائی کی لیکن بی جے پی کو اقتدار بہر حال مل گیا۔
اسکے بعد میونسپل کارپوریشن کے الیکشن ہوئے۔ اس میں بھی وہی ’ حکمت عملی‘ دہرائی گئی یعنی ہر ایک پارٹی نے اپنے طور پر امیدوار اتارے۔ حالانکہ مہایوتی نے بھی بیشتر مقامات پر ایسا ہی کیا لیکن نتائج آنے کے بعد ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں میں سے ۲۰؍ پر بی جے پی نے اپنا میئر بنایا۔ایک بار پھر وہی کھیل کھیلا گیا۔ بی جے پی کو ’اقتدار سے دور‘ رکھنے کے نام پر ووٹ مانگنے والی پارٹیوں نے موقع ملنے کے باوجود اپنا میئر بنانے کے بجائے بی جے پی کے ہاتھوں میں اقتدار سونپ دیا۔ کہیں براہ راست تو کہیں بالواسطہ ۔ ممبئی سے قریب بھیونڈی اور ودربھ کے شہر چندر پور میں ہو ئی ہیر پھیر اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔
بھیونڈی میں کانگریس نے ۳۰؍سیٹیں حاصل کی تھیں جبکہ اس کی حلیف این سی پی (شرد) کو ۱۲؍ سیٹیں ملی تھیں ۔ سماج وادی پارٹی کے پاس ۶؍ سیٹیں تھیں جن کی حمایت سے ۹۰؍ سیٹوں والی کارپوریشن میں بہ آسانی میئر بن جاتا لیکن سماج وادی پارٹی اور کانگریس میں مفاہمت نہ ہو سکی ۔ نتیجتاً کانگریس نے بی جے پی کے ۶؍ اراکین کو توڑ لیا اور انہی میں سے ایک کو میئر بنا دیا۔ جبکہ کانگریس کے طارق مومن کو نائب میئر بنایا گیا۔ کانگریس کے جن کارکنان نے جی توڑ محنت کرکے پارٹی کو ایوان میں سب سے زیادہ سیٹیں دلوائیں اور جن ووٹروںنے قطار میں کھڑے رہ کر صرف بی جے پی کوشکست دینے کیلئے ان پارٹیوں کو ووٹ دیا وہ منہ تکتے رہ گئے کیونکہ بی جے پی سے آئے ہوئے لیڈر کو میئر کرسی پر دیکھ کر کوئی بھی خوش نظر نہیں آ رہا ہے۔
بھیونڈی میں تو بالواسطہ کانگریس نے بی جے پی کے لیڈر کو میئر کی کرسی پر بٹھایا لیکن چندر پور میں شیوسینا (ادھو) نے براہ راست بی جے پی کی حمایت کی اور کانگریس کو اقتدار سے محروم کر دیا۔ چندر پور میں کل ۶۶؍ سیٹیں ہیں جن میں سے ۲۷؍ پر کانگریس نے جیت حاصل کی تھی۔ جبکہ بی جے پی کو ۲۳؍ سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کی دوست پارٹی شیوسینا (ادھو) کے پاس ۶؍ سیٹیں تھیں۔ دونوں کی تعداد ملا کر بہ آسانی اقتدار تک پہنچا جا سکتا تھا لیکن شیوسینا (ادھو) نے اچانک خیمہ بدل لیا اور اسکے ۶؍ اراکین نے براہ راست بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا۔ ’دیگر‘ پارٹیوں کے کچھ اراکین غیر حاضر رہے اور بہ آسانی بی جے پی نے میئر کی کرسی حاصل کرلی۔ اب ان دو مقامات پر واضح طور پر یہ نظر آ رہا ہے کہ ہاتھ آئی کرسی کو آپسی چپقلش یا پھر فی الفور اقدام کے فقدان کے سبب گنوا دیا گیا۔اس صورتحال کے سبب عام ووٹروں کے دل میں کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔