کورونا سے قبل ہی نوٹ بندی کے سبب معاشی بدحالی شروع ہوگئی تھی

Updated: November 26, 2020, 9:06 AM IST | Agency | Hyderabad

تلنگانہ کے وزیر تارک راما رائو کے مطابق نوٹ بندی نے ہی معیشت کو تباہ کیا ہے اور بزنس کو برباد کیا ہے

Demonitisation
نوٹ بندی کے سبب بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئی تھیں

تلنگانہ کے  ریاستی وزیر برائے  انفارمیشن ٹکنالوجی  اور حکمراں جماعت ٹی آرایس کے کارگزار صدر تارک راما رائو نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر شدید نکتہ چینی کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کور ونا  سے پہلے ہی برے حال ہی میں تھی کیوں کہ مودی سرکار نے نوٹ بندی کرکے اس کی کمر توڑ دی تھی  اور آج تک اس کی حالت  بہتر نہیں ہوئی ہے۔ ۔ انہوں نے تاجروں کے ساتھ ’ہوشیار حیدرآباد‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشی سست روی کا آغاز لاک ڈائون کے اعلان سے بہت پہلے ہی ہوگیا تھا۔لاک ڈائون سے قبل  بھی  مسلسل آٹھ سہ ماہی سست روی درج کی گئی جس کے نتیجہ میں معاشی انحطاط درج کیاگیا۔
  تارک راما رائو کے مطابق کورونا کے بحران سے قبل نوٹ بندی نے معیشت کو تباہ کیا تھا۔ اس کا  اثر چھوٹے،درمیانی اور متوسط درجہ کے تاجروں پر پڑا  اور اس کے نتیجے میں یہ معاشی سست روی درج کی گئی۔ کاروبار نوٹ بندی کی وجہ سے شدید طورپر متاثر ہوا اور لاک ڈائون کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوگیا۔انہوں نے وہاں موجود شرکاء سے سوال بھی کیا کہ کتنے افراد کو این ڈی اے کی جانب سے اعلان کردہ۲۰؍لاکھ کروڑ روپے کے مالی پیکیج سے فائدہ پہنچا۔اس کے جواب میں ایک بھی شخص نے ہاں نہیں کہا ۔  اس پر تارک راما رائو نے کہا کہ ملک کی معیشت کو چلاناہنسی کھیل نہیں ہے لیکن مودی سرکار اتنی غیر سنجیدگی کے ساتھ معیشت چلانے میں مصروف ہے کہ ہمیں ملک کی معاشی حالت پر افسوس ہو رہا ہے۔ نوٹ بندی جیسا قدم اسی غیر سنجیدگی کا ایک واضح نمونہ تھا کہ کسی ملک کی معیشت کو تباہ ایسے بھی کیا جاسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK