Updated: September 14, 2026, 9:12 PM IST
| Paris
فرانس میں معروف ادبی پروگرام La Grande Librairie میں اداکارہ و مصنفہ ایڈیل ہینل کے فلسطین اور غزہ سے متعلق سخت مؤقف پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ فرانس ٹیلی ویژنز نے ان کے متنازع بیان والے پروگرام کا ری پلے عارضی طور پر ہٹا دیا، جسے بائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں نے سنسرشپ قرار دیا ہے۔
اداکارہ و مصنفہ ایڈیل ہینل ۔تصویر:آئی این این
فرانس کے سرکاری نشریاتی ادارے’ فرانس ٹیلی ویژنز‘نے فرانس ۵؍ کے ادبی پروگرام La Grande Librairie کا ری پلے اپنے آن لائن پلیٹ فارم سے ہٹا دیا، جس کے ایک لائیو حصے میں اداکارہ اور مصنفہ ایڈیل ہینل نے غزہ اور فلسطین کے معاملے پر اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ پروگرام ۹؍ستمبر کو نشر ہوا تھا اور ہینل نے اختتامی ’’Droit dans les yeux‘‘ حصے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہینل، جو اپنی پہلی کتاب’ Viser juste‘ پیش کرنے پروگرام میں شریک ہوئی تھیں، نے اپنے لیے مخصوص ’’کارٹ بلانش‘‘ حصے میں پہلے جنسی اور صنفی تشدد کے بارے میں بات کی۔ اس کے بعد انہوں نے فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل کی ریاست فلسطین میں نسل کشی کررہی ہے اور فرانس اس میں شریک ہے‘‘۔ انہوں نے ناظرین سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے اور فلسطین کو آزاد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے یہ ریمارکس لائیو نشر ہوئے اور بعد میں سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیل گئے۔
’ فرانس ٹیلی ویژنز‘نے ری پلے ہٹانے کو سنسرشپ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ادارے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’’قدامتاً حفاظتی اقدام‘‘ کے طور پر کیا گیا اور اس کا مقصد’ Arcom ‘کو معاملے کا جائزہ لینے کا موقع دینا ہے۔ ادارے کے مطابق اسے پروگرام نشر ہونے کے بعد نگران ادارے کے پاس متعدد شکایات موصول ہونے کی اطلاع ملی، جبکہ اس کے نشریاتی ضابطے میں متنازع جغرافیائی و سیاسی موضوعات پر مختلف نقطۂ نظر پیش کرنے کی شرط موجود ہے۔ فرانس ٹیلی ویژن نے اپنے نشریاتی ضابطے کے آرٹیکل۳۵؍ کا حوالہ دیا، جس کے تحت متنازع معاملات کو دیانت داری سے پیش کرنا اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ادارے کے مطابق ہینل کی تقریباً۳؍ منٹ کی ’’کارٹ بلانش‘‘ میں ان کے مؤقف کے مقابل کوئی دوسرا نقطۂ نظر پیش نہیں کیا گیا، اسی لئے’ Arcom ‘کے جائزے تک ری پلے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ابوظہبی کے ولی عہد نے مصافحہ کرکے ہندوستانی ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا، انٹرنیٹ صارفین کے دل جیت لئے
اس اقدام پر فرانس میں سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعت’ La France Insoumise ‘کے متعدد لیڈروں نے ری پلے ہٹانے کو سنسرشپ قرار دیا، جبکہ سوشلسٹ پارٹی کے اولیویے فاؤر نے کہا کہ ’’کارٹ بلانش‘‘ کا بنیادی مقصد ہی مہمان کو آزادانہ اظہار کا موقع دینا ہے۔ دوسری جانب دائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ ژولیان اودول نے ہینل کے بیان اور پروگرام کے نشر کیے جانے پر سخت تنقید کی اور اسے حماس کے حق میں پروپیگنڈا قرار دیا۔ ہینل نے بھی ری پلے ہٹائے جانے پر سوشل میڈیا کے ذریعے ردعمل دیا۔ ان کے مطابق انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ فرانس ۵؍ان کے بیان کا مختصر کلپ ہٹا سکتا ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی گفتگو محفوظ کرلی تھی، لیکن انہیں توقع نہیں تھی کہ پورا پروگرام ہی پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کارروائی خود اس بات کی مثال بن گئی ہے جس خاموشی کی وہ پروگرام میں بات کررہی تھیں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ’ La Grande Librairie ‘کی ’’کارٹ بلانش‘‘ میں غزہ کا ذکر ہوا ہو۔ جون ۲۰۲۵ءمیں مصنفہ اینی ارنو نے بھی اسی حصے میں غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت’ Arcom ‘میں کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی اور پروگرام کی متعلقہ ویڈیو اب بھی اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود ہے۔ اب معاملہ’ Arcom ‘کے جائزے کے سامنے ہے۔ فرانس ٹیلی ویژنز کا کہنا ہے کہ اگر نگران ادارہ کسی خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کرتا تو ری پلے بحال کیا جاسکتا ہے۔ یوں فی الحال پروگرام کو مستقل طور پر ہٹانے کے بجائے اس کی آن لائن دستیابی کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔