ہند امریکہ معاہدہ اوردیگر عوامل کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں دسمبر میں اضافہ تو ریکارڈ کیا گیامگر سرمایہ کی آمد نکالے جانے کی شرح سے کم ہے۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 11:21 AM IST | Mumbai
ہند امریکہ معاہدہ اوردیگر عوامل کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں دسمبر میں اضافہ تو ریکارڈ کیا گیامگر سرمایہ کی آمد نکالے جانے کی شرح سے کم ہے۔
مودی سرکار اپنی تمام تر کوششوں اور تشہیری مہموں کےذریعہ یہ باور کرانے کے باوجود کہ ہندوستان تیزی سے ترقی کررہا ہے، غیر ملکی سرمایہ کے انخلاء کو روکنے میں ناکام ہے۔ عالم یہ ہے کہ لگاتار چوتھے ماہ ہندوستانی بازار سے غیر ملکی سرمایہ کے انخلاء کا سلسلہ جاری رہا۔ اس بیچ حالانکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری بھی کی ہے مگر انخلاء کی شرح کے مقابلے میں سرمایہ کاری کی شرح کم ہے۔
آر بی آئی کے مطابق خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری دسمبر ۲۰۲۵ء میں مسلسل چوتھے ماہ منفی رہی اور۱ء۶؍ ارب ڈالر پر پہنچ گئی کیونکہ ہندوستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے رقوم کی واپسی اور ہندوستانی کمپنیوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری ملک میں آنے والی براہِ راست سرمایہ کاری سے زیادہ رہی۔ اس کا انکشاف آر بی آئی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے تجزیے سے ہوتا ہے۔ ریزرو بینک کے مطابق دسمبر۲۰۲۵ء میں براہِ راست سرمایہ کاری کی مجموعی آمد۸ء۶؍ ارب ڈالر رہی، جو ۵؍ ماہ کی بلند ترین سطح اور دسمبر ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۱۷ء۲؍ فیصد زیادہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہند اور برازیل کے درمیان ڈاک کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے پر زور
رپورٹ کے مطابق’’دسمبر میں مجموعی ایف ڈی آئی مضبوط رہی جس میں سنگاپور، نیدرلینڈس اور ماریشس نے کل آمد کا ۸۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ لگایا۔ بڑے وصول کنندہ شعبوں میں ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، کمپیوٹر سروسیز اور بجلی اور توانائی کی پیداوار، تقسیم اور ترسیل وغیرہ شامل ہیں۔ ‘‘
رپورٹ کے مطابق اگرچہ غیر ملکی سرمایہ کی آمد میں نسبتاً مضبوط اضافہ دیکھا گیا ہے مگر انخلاء اس سے بھی زیادہ رہا۔ ہندوستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے رقوم کی واپسی اور سرمایہ نکالنے کا حجم دسمبر۲۰۲۵ء میں تقریباً ۷ء۵؍ ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو جنوری۲۰۲۱ء کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
ہندوستانی کمپنیوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری بھی دسمبر میں ۲ء۷؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو دسمبر۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۳۰ء۵؍ فیصد اور نومبر۲۰۲۵ء کے مقابلے میں ۷۸؍ فیصد زیادہ ہے۔
اس سے قبل آر بی آئی نے کہا تھا کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال اور۵۰؍ فیصد ٹیرف نے سرمایہ کاروں میں ہچکچاہٹ پیدا کی۔ دسمبر۲۰۲۵ء کیلئے یہ اعداد و شمار امریکہ کے ساتھ عبوری معاہدے اور یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے اعلان سے پہلے کے ہیں، اس لیے یہ اسی فضا کی عکاسی کرتے ہیں۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ ہند -امریکہ اور ہند یورپی یونین معاہدوں کے اعلان نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ راغب کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’’فروری میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری نے واپسی کی، کیونکہ ہند-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے اور ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا۔