گزشتہ ہفتے بی ایس ای کا سینسیکس ۸۲؍ ہزار کے اوپر بند ہوا تھا، اس ہفتے امریکہ کے حالات کا واضح اثر نظر آنے کا امکان ہے، مارکیٹ پر سبھی کی نظریں۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 11:24 AM IST | Mumbai
گزشتہ ہفتے بی ایس ای کا سینسیکس ۸۲؍ ہزار کے اوپر بند ہوا تھا، اس ہفتے امریکہ کے حالات کا واضح اثر نظر آنے کا امکان ہے، مارکیٹ پر سبھی کی نظریں۔
مقامی شیئر بازاروں میں گزشتہ ہفتے رہنے والی تیزی کے بعد، امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی وجہ سے اگلے ہفتے بھی تیزی جاری رہنے کی امید ہے۔
امریکہ کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں گزشتہ سال صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر لگائی گئی زیادہ درآمدی ڈیوٹی کے انتظامی احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے فوری طور پر ۱۵۰؍ دنوں کے لیے تمام ممالک پر یکساں ۱۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے لیے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ شرح ۲۴؍ فروری سے نافذ ہوگی۔ ٹرمپ نےسوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ ۱۰؍ فیصد کو بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں ہوا ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ ہندوستان کے ساتھ ہونے والے عبوری تجارتی معاہدے میں امریکہ نے ۱۸؍فیصد کی شرح سے درآمدی ڈیوٹی لگانے کا انتظام کیا ہے، شرحوں میں مزید کمی سے سرمایہ کار بازار میں خریدار ی کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بی ایس ای کا سینسیکس ۸۲؍ ہزار پوائنٹس کے اوپر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی ۵۰؍ انڈیکس ۲۵؍ ہزار پوائنٹس کے اوپر بند ہواتھا۔ اس لحاظ سے یہ ہفتے سرمایہ کاری کے لئے اہم قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ درآمدی ڈیوٹی میں کمی شیئر بازار میں خریداری کا ماحول پیدا کرسکتی ہے جس سے کمپنیوں کو فائدہ ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اشونی ویشنو کا دعویٰ ،اے آئی امپیکٹ سمٹ شاندار طور پر کامیاب رہی
دریں اثناءمقامی شیئر بازاروں میں گزشتہ ہفتے رہنے والی تیزی کے درمیان بی ایس ای کی ٹاپ ۱۰؍ میں شامل چھ کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (ایم کیپ) میں ۶۳؍ ہزارکروڑ روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ بقیہ چار کمپنیوں کی قدر میں ۳۸؍ ہزار کروڑ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تعمیرات اور انجینئرنگ کے شعبے کی کمپنی ایل اینڈ ٹی کی مارکیٹ کیپ میں ۲۸؍ ہزارکروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ سرکاری شعبے کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے مارکیٹ کیپ میں ۱۶؍ ہزار کروڑ روپے اور نجی شعبے کے ایچ ڈی ایف سی بینک میں ۹۸۰۰؍کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ سرکاری انشورنس کمپنی ایل آئی سی کے ایم کیپ میں ۵۷؍ سو کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔