تھانے اور میرا بھائندر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے ڈیولپمنٹ پلان کے تحت قبرستان بنا نے کیلئے ریزرو زمینوں پر قبضہ کئے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 12:53 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
تھانے اور میرا بھائندر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے ڈیولپمنٹ پلان کے تحت قبرستان بنا نے کیلئے ریزرو زمینوں پر قبضہ کئے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی گئی تھی۔
تھانے اور میرا بھائندر میں مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے ڈیولپمنٹ پلان کے تحت قبرستان بنا نے کیلئے ریزرو زمینوں پر قبضہ کئے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی گئی تھی۔ مذکورہ علاقوں کے شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کورٹ نے دونوں شہری انتظامیہ کو طےشدہ وقت میں تھانےاورمیرابھائندرمیں مسلمانوں اورعیسائیوں کے لئے قبرستان کی زمین کو اپنی تحویل میں لینے او تدفین کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی ۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس سمن شیام کے فیصلہ سے دونوں ہی مذاہب کے شہریوں کو جہاں اس بات کا اطمینان ہوا ہے کہ ڈیولپمنٹ پلان کے مطابق ہائی کورٹ نے قبرستان تعمیر کرنے کامثبت فیصلہ دیا و ہیں عرضداشت گزاروں نے عدالت کے فیصلہ کے چند حصوں پر عدم اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ ہائی کورٹ میں تھانے اور میرا بھائندر میں عیسائیوں اور مسلمانوں کیلئے ڈیولپمنٹ پلان کے تحت ریزرو کی گئی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ جات ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے ان زمینوں کو خالی کرانے اور قبرستان بنانے کی اپیل کی گئی تھی۔ درخواست گزار میلوین فرنانڈیس اوروکیل سنیتا بنیس نےچیف جسٹس کے عرضداشت داخل کرکے بتایاکہ تھانے میں عیسائیوں کیلئے اور میرا بھائندر میں مسلمانوں کیلئے ڈیولپمنٹ پلان کے مطابق جس زمین پر قبرستان بنانے کا منصوبہ ہے، اس کے مطابق نہ تو حکومت اور نہ ہی تھانے اور میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن اسے بنانے میں دلچسپی لے رہی ہے اور نہ ہی ان زمینوں پر غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹا یا جارہا ہے۔ درخواست گزاروں نے زمین کو خالی کرانے اور اور ڈیولپمنٹ پلان کے مطابق مختص کی گئی زمین پر قبرستان بناکر دونوں مذاہب کے ذمہ داروں کے حوالے کرنے کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر بجٹ اجلاس: اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے حکومت کی چائے پارٹی کا بائیکاٹ
دونوں عرضداشتوں کا جائزہ لینے اور اس ضمن میں فراہم کی گئی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس سمن شیام نے کہا کہ ’’ ڈیولپمنٹ پلان کے تحت جن علاقوں میں عیسائی اور مسلمانوں کیلئے قبرستانوں کی زمینوں کو مختص کیا گیا ہے، اسے ہر قسم کے غیر قانونی قبضہ جات سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت کے ساتھ تھانے اور میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کی بھی ہے۔ اس ضمن میں دونوں ہی کارپوریشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ قبرستان کی زمین حاصل کرنے کے سلسلہ میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کریں۔ ‘‘ کورٹ نے ڈیولپمنٹ پلان کے تحت نہ صرف زمین پر غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹانے بلکہ ۲؍ سال کے طے شدہ وقت میں زمین کو اپنے قبضہ میں لینے، قبرستان تیار کرنےاور تدفین کی سہولت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اس کے علاوہ کورٹ نے یہ بھی فرمان جاری کیا ہے کہ مذکورہ بالا زمین پر سی آر زیڈ کے تحت عائد کردہ پابندیوں اور دیگر قانونی منظوریوں کو عملی طور پر انجام دینےاور جانچنے کے علاوہ ممکنہ طور پراگر کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہو تو وہ تین ماہ میں متبادل جگہ تلاش کرے اور اسے اپنی تحویل میں لے کر ۲؍ برسوں میں تدفین کے عمل کو یقینی بنائے۔ ‘‘