دورانِ طالب علمی دارالعلوم دیوبند سے آندھرا پردیش میں بھی ۵؍برس تراویح پڑھا چکے ہیں ۔ ۳؍ سال پہلے شعبان المعظم میں مسجد میں گِرجانے اور ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہونے کےباوجود تراویح کا معمول برقرار رہا۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 12:30 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
دورانِ طالب علمی دارالعلوم دیوبند سے آندھرا پردیش میں بھی ۵؍برس تراویح پڑھا چکے ہیں ۔ ۳؍ سال پہلے شعبان المعظم میں مسجد میں گِرجانے اور ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہونے کےباوجود تراویح کا معمول برقرار رہا۔
حافظ مولانا محب المرسلین قاسمی ۳۶؍برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ فی الوقت وہ جوگیشوری (مغرب) کی بلال مسجد کے خطیب و امام ہیں اوراسی مسجد میں ۲۶؍برس سے تراویح بھی پڑھا رہے ہیں۔ اس سے قبل دیگر مساجد میں پڑھاچکے ہیں۔ مولانا نے حفظ مکمل کرنے کے بعد پہلی تراویح اپنے آبائی وطن اسلام نگر سہارن پور (یوپی )میں پڑھائی تھی۔
دارالعلوم دیوبند میں دورانِ طالب علمی انہیں آندھرا پردیش میں تراویح پڑھانے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ آندھرا میں انہوں نے۵؍برس تک پڑھایا۔ یہاں واضح رہے کہ ہرسال تقاضے کے مطابق دارالعلوم دیوبند کی جانب سے خوش الحان اور اچھی یادداشت والے حفاظ کو تراویح پڑھانے کےلئے مختلف مقامات پر بھیجا جاتا ہے، جہاں سے درخواست آئی ہوئی ہوتی ہے۔
۵۲؍سالہ حافظ محب المرسلین نے مدینۃ العلوم اسلام نگر میں حافظ شفیع کے پاس حفظ مکمل کیا۔ اس کے بعددَور کیا اور عالمیت کے لئے اشرف العلوم گنگوہ میں داخلہ لیا، وہاں ابتدائی کتابوں کے ساتھ شرح جامی تک تعلیم حاصل کی اس کے بعد دارالعلوم دیوبند آئے اور ۱۹۹۵ء میں فراغت حاصل کی۔ طویل عرصے تک تراویح تنہا پڑھائی مگر اب سامع بھی ان کے ساتھ سناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں کے حافظ مولانا محمد اطہرمحمد سعید ۴۱؍برس سےتراویح پڑھا رہے ہیں
تراویح پڑھانے میں کبھی دشواری یا کوئی مسئلہ پیش آنے کے تعلق سے مولانا نے بتایا کہ تین برس قبل شعبان کے مہینے میں مسجد میں پھسل جانے کے سبب ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہوگئی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس سال ناغہ ہوجائے گا، ڈاکٹر نے بھی آرام کا مشورہ دیا، مصلیان اور ذمہ داران مسجد نے بھی منع کیا مگر تعلق بالقرآن کی بدولت معمول برقرار رہا۔ اُس رمضان میں ابتداء میں چند دن ایک شاگرد نے پڑھایا اس کے بعد مولانا نے معمول کے مطابق پڑھانا شروع کیا اورقرآن کریم مکمل کیا۔
مولانا کا علمی اورروحانی خانوادہ ہے۔ ان کے والد حافظ الحاج عبدالشکور نقشبندی ؒ مفتی خالد سیف اللہ گنگوہی کے خلیفہ تھے۔ مولانا کے تین چچازاد بھائی حافظ ہیں جبکہ بچوں میں بڑے صاحبزادے اس وقت جالنہ میں مولانا غلام محمد وستانوی کے قائم کردہ کالج میں ایم بی بی ایس کررہے ہیں اور دوسرےبچے بھی زیرتعلیم ہیں۔
حافظ محب المرسلین کا پورے سال تلاوت کا معمول ہے، خصوصاً نوافل میں تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ نئے حفاظ کو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ حفظ کرلینا تو بڑی نعمت اور انعام خداوندی ہے ہی مگر یہ بھی ضروری ہے کہ حفاظ تراویح ضرور پڑھائیں اور اگر کبھی مسجد میں جگہ نہ ملے تو نوافل میں ضرور پڑھیں، ورنہ بھول جانے کا احتمال رہتا ہے۔ مولانا دارالعلوم اسلامیہ مسجد فاران جوگیشوری کے سینئر استاد تفسیر و عربی ادب ہیں اور صاحبِ تصنیف بھی۔ دو جلدوں پرمشتمل خطبات ِمحب کافی مقبول ہوئے، خاص وعام کی پزیرائی کے ساتھ اسے دارالعلوم دیوبند کے انعامی جلسوں میں طلبہ کوتقسیم بھی کیا جاتاہے، مزید تصنیفی کام جاری ہے۔